Articles by "Mohammad Bin Salman"
Showing posts with label Mohammad Bin Salman. Show all posts

امام کعبہ کو ایک خطبے میں ولی عہد محمد بن سلمان کے طرز حکمرانی کو مطلق العنانیت قرار دینے کے اگلے روز گرفتار کیا گیا تھا 

سعودی میڈیا کے مطابق 2018 میں مبینہ طور پر شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر امام کعبہ شیخ صالح الطالب کو گرفتار کیا گیا تھا اور اب مقامی عالت نے انھیں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

خیال رہے کہ جب امام کعبہ صالح الطالب کو حراست میں لیا گیا تھا اُس وقت بھی وجہ نہیں بتائی گئی تھی اور عدالت کی جانب سے قید کی سزا پر بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ صالح الطالب سعودی عدالتوں میں جج کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امام کعبہ کو ایک خطبے میں ولی عہد کے طرز حکمرانی کو مطلق العنان قرار دینے کے اگلے روز گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ چند روز قبل ہی مقامی عدالت نے پی ایچ ڈی کرنے والی ایک سعودی سوشل ایکٹیوسٹ خاتون کو بھی 30 سال قید کی سزا سنائی تھی جس سے یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جارہی ہے۔

چھوٹے کپڑوں میں خواتین کے رقص کی مذمت، لوگوں میں شدید ناراضگی، حکومت نے جانچ کا حکم جاری کیا

سعودی عرب میں ایک تقریب کے دوران سمبا ڈانسروں کے ڈانس سے تنازعہ شروع ہوگیا۔چھوٹے کپڑوں میں خواتین کے رقص کرنے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس کی سعودی عرب میں مذمت کی جارہی ہے۔ لوگوں کی ناراضگی کے بعد سعودی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کا حکم جاری کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔فروری کے وسط تک مہاراشٹر کو پابندیوں سے راحت نہیں: راجیش ٹوپےster-Rajesh-Tope.html

واضح رہے کہ رقص کا یہ ویڈیو گذشتہ ہفتے سے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں تین غیر ملکی سمبا ڈانسرز سعودی عرب کے جنوبی شہر جزان کی ایک مصروف شاہراہ پر رقص کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کیلئے ایک ڈریس کوڈ ہے جس کے تحت ان کا چہرہ بھی ڈھکا ہوتا ہے۔ جبکہ عوامی مقامات پر جانے والی خواتین کیلئے برقعہ کا حکم ہے۔ ایسے میں چھوٹے کپڑے پہن کر رقص کرنے والی سمبا ڈانسروں نے ملک میں ایک تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ سعودی عرب میں اس وقت کئی تفریحی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے یہ بھی اسی طرح کی تقریب تھی۔

سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان اپنے ویزن 2030 کے تحت اس طرح کی تفریحی تقریبات کے انعقاد کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی شبیہ تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ سمبا ڈانسروں کے معاملے میں لوگوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل العربیہ نے اس تقریب کے فوٹیج نشر کئے لیکن سمبا ڈانسروں کی تصاویر کو دھندلا کردیا۔