باغی اراکین اسمبلی ممبئی سے گوہاٹی پہنچ گئے کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی، انٹلی جنس اور وزارت داخلہ کی ناکامی کا بین ثبوت
جس طرح مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے حکومت پر بحران آیا اس میں پولیس انٹلی جنس کی ناکامی سے انکار نہیں کیا جاسکتا. یہ محکمہ ریاست کی وزارت داخلہ کے ماتحت آتا ہے جس کے سربراہ راشٹروادی کانگریس کے دلیپ ولسے پاٹل ہیں. والسے پاٹل کے ساتھ ہی اس معاملے میں این سی پی سربراہ شرد پوار کا کردار بھی شک کے گھیرے میں ہے. بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہوگیا کہ شیوسینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندے 36 اراکین اسمبلی کو لے کر ممبئی سے سورت لے گئے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی.
یہ بھی پڑھیں :.... ادھو ٹھاکرے کے نام باغی اراکین اسمبلی کا مکتوب
اگر ادھو ٹھاکرے کو بروقت اس کی خبر مل گئی ہوتی تو وہ بھی راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کی طرح سیاسی داؤ پیچ کھیل کر اپنی حکومت کو محفوظ کرسکتے تھے. واضح رہے کہ گزشتہ 8 برسوں میں اشوک گہلوت واحد وزیراعلیٰ ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کو ناکام کر دیا تھا. ذرائع کے مطابق ادھو ٹھاکرے کو کمزور کرنے کا کام راجیہ سبھا انتخابات سے شروع ہوا، پہلے بی جے پی کو راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی ملی، جس میں شیوسینا امیدوار کو شکست ہوئی. اس کے بعد ایم ایل سی انتخابات میں بھی شیوسینا کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا. یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ بالا دونوں انتخابات میں کراس ووٹنگ کرائی گئی.
اس پورے معاملے میں کچھ اہم نکات کی بنیاد پر شرد پوار کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے.....
*مہاراشٹر حکومت وزارت داخلہ این سی پی کے پاس ہے، این سی پی رکن اسمبلی ولسے پاٹل وزیرداخلہ ہیں، لیکن شندے گروہ کی بغاوت میں پولیس انٹلی جنس کی مستعدی کہیں بھی نظر نہیں آتی. حتی کہ بغاوت کے ایک روز بعد بھی کچھ اراکین اسمبلی گوہاٹی پہنچے. انہیں بھی روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی. حالانکہ شرد ہوار نے اس مدعے پر وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے.
*اس سیاسی بحران کے درمیان شرد پوار نے بدھ کے روز ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی، اور اس کے بعد باغی اراکین اسمبلی گروہ کے لیڈر ایکناتھ شندے کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کردیا. سوال یہ ہے کہ پوار نے ایسا کیوں کہا؟؟؟؟ کیا انہیں اس پورے معاملے کا پہلے سے علم تھا؟؟؟؟
*سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ این سی پی کے دو وزیر نواب ملک اور انیل دیشمکھ جیل میں ہیں، اسلئے اپنے وزراء کو بچانے کیلئے این سی پی، بی جے پی کے ساتھ خفیہ سمجھوتہ بھی کرسکتی ہے. اور اس سیاسی بحران کے سبب شیوسینا کمزور ہوگی جس کا این سی پی کو مستقبل میں فائدہ مل سکتا یے.
*2019 میں این سی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا، اجیت پوار نائب وزیر اعلیٰ بنے تھے، اس دوران بی جے پی نے این سی پی اراکین اسمبلی کو ورغلانے کی کوشش کی تھی لیکن شرد پوار نے مداخلت کرتے ہوئے محض تین روز میں اس کا حل نکال لیا تھا. لیکن اس مرتبہ وہ زیادہ متحرک نظر نہیں آرہے ہیں. ایسا کیوں ہے کہ اپنی ہی حکومت کو بچانے میں ان کی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے.


Post A Comment:
0 comments: