پولیس اسٹیشنوں میں حقوق انسانی کو سب سے زیادہ خطرہ، وی آئے پی اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی کا فرق دور کرنا نہایت ضروری:سی جے آئے

پولیس کی بدنامی اور ان کے سخت رویے کے روداد اکثر سننے کو ملتی ہے۔لیکن اس معاملے پر اگر چیف جسٹس آف انڈیا تشویش ظاہر کریں تو اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے اور پولیس کی شبیہ مشکوک ہوجاتی ہے اور خاکی وردی والوں کے رویے کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے۔

جن ستہ نالسا کے نیائے(انصاف) تک پہنچ نامی پروگرام میں چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے کہا کہ پولیس کی تھرڈ ڈگری سے بااثر لوگ بھی نہیں بچ پاتے۔انہوں نے پولیس افسران کو حساس بنانے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ وی آئی پی اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی کے فرق کو ختم کرنا نہایت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مہاراشٹر کے اسکولوں نے کہا ابھی آف لائن کلاسیس کیلئے تیار نہیں

ایک ادارے کے طور پر عدالت عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے، اسکے لئے ہمیں لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ ہم سب کے ساتھ ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ قانونی امداد کے آئینی حق اور مفت قانونی امداد کی دستیابی سے متعلق  معلومات کی ترسیل پولیس کی زیادتیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر پولیس اسٹیشن اور جیل میں ڈسپلے بورڈ اور ہورڈنگز لگانا اس سمت میں ابتدائی پہل ہے۔نالسا کو ملک میں پولیس افسران کو حساس بنانے کیلئے قدم اٹھانا چاہیے۔سی جے آئے نے کہا کہ حراستی تشدد اور پولیس کے دیگر مظالم وہ مسائل ہیں جو اب بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ آئینی اعلانات اور ضمانتوں کے باوجود پولیس اسٹیشنوں میں موثر قانونی نمائندگی کا فقدان، گرفتار یا حراست میں لئے گئے افراد کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔قابل ذکر ہے کہ نالسا لیگل سروسز اتھارٹی ایکٹ، 1987 کے تحت تشکیل دیا گیا تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو مفت قانونی خدمات فراہم کی جا سکیں اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے عوامی عدالتوں کا اہتمام کیا جا سکے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے وکلاء سے کہا کہ وہ قانونی مدد کے مستحق لوگوں کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے اہداف عوام کو قائل کرنے کے بعد ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں جب لوگ آپ پر یقین کریں گے تب ہی وہ اپنے درد آپ سے بانٹیں گے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: