ویکسینیشن اور پابندیاں ہی وائرس کو روکنے کا واحد حل، لوگ راش کیلئے رعایت کی امید رکھتے ہیں لیکن ویکسن کیلئے قدم پیچھے ہٹا رہے ہیں
جس طرح سے کرونا کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیرصحت راجیش ٹوپے کا کہنا ہے کہ کم از کم فروری کے وسط تک مہاراشٹر میں سخت پابندیاں عائد رہیں گی۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ قیاس لگایا جارہا ہے کہ جنوری کے آخری ہفتہ اور فروری کے پہلے ہفتے میں اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کے امکانات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔اسدالدین اویسی کے نام حضرت مولانا سجاد نعمانی کا کھلا خط
راجیش ٹوپے نے کہا کہ جس طرح سے چھوٹے شہروں میں کرونا کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہی اس کا واحد حل ہے۔ وہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندی اور ویکسینیشن ہی وائرس کو روکنے کا طریقہ ہے۔عاجیش ٹوپے نے کہا کہ حالانکہ گذشتہ دو روز میں نئے معاملات میں کمی آئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وائرس کا پھیلاؤ تھم گیا ہے۔اب بھی 46 ہزار ایکٹیو کیسیس موجود ہیں۔ اس لئے کچھ بجی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بی جے پی چھوڑنے کے اگلے روز ہی دلت لیڈر موریا کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری
راجیش ٹوپے نے بتایا کہ انہوں نے مرکزی حکومت سے 50 لاکھ کووی شیلڈ اور 40 لاکھ کوویکسن کے ڈوز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ویکسن لگوانے کیلئے سختی برتنی ہوگی۔ یہ باکل ٹھیک نہیں ہے کہ لوگ راشن کیلئے رعایت کی امید رکھتے ہیں لیکن اب حکومت ویکسن لگوانے کو کہہ رہی ہے تو لوگ قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ہم ویکسین لگوانا لازمی تو نہیں قرار دے سکتے لیکن ہم ضلعی سطح پر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ لوگ ویکسن لگانے کیلئے آگے آئیں۔

Post A Comment:
0 comments: