Articles by "Petrol"
Showing posts with label Petrol. Show all posts

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ترین سطح پر، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 14 روپے تک کی کمی ہوسکتی

خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 14 روپے تک کی کمی ہوسکتی ہے۔  بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل (برینٹ) کی قیمت جنوری کے بعد کم ترین سطح پر ہے۔ اب یہ 81 ڈالرسے نیچے ہے۔  امریکی خام تیل 74 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔ مئی کے بعد پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے، خاص طور پر خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ کی وجہ سے ہندوستانی ریفائنری کے لیے خام تیل (انڈین باسکٹ) کی اوسط قیمت کم ہوکر 82 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے۔ .

  مارچ میں یہ 112.8 ڈالر تھا۔  اس کے مطابق 8 ماہ میں ریفائننگ کمپنیوں کے لیے خام تیل کی قیمت میں 31 ڈالر (27 فیصد) کی کمی ہوئی ہے۔  ایس ایم سی گلوبل کے مطابق، ملک کی تیل کمپنیاں خام تیل کی قیمت میں ہر ایک ڈالر کی کمی پر ریفائننگ پر 45 پیسے فی لیٹر بچاتی ہیں۔ اس کے مطابق پیٹرول-ڈیزل کی قیمت 14 روپے 14 پیسے  فی لیٹر سے کم ہونا چاہیے۔  تاہم ماہرین کے مطابق پوری کمی ایک ہی بار میں نہیں ہو گی۔

 

پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کانگریس کا احتجاج، قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ، بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاج کا انتباہ

مرکزی حکومت کے ذریعے پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج شہر مالیگاؤں کے مختلف پیٹرول پمپ پر ریاست گیر احتجاج کیا گیا۔ جس میں کانگریس کے مقامی لیڈران اور کارکنان نے مودی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس دوران کانگریس کے مقامی صدر شیخ رشید نے متنبہ کیا کہ اگر ایندھن پر عائد کردہ اضافی ٹیکس اور پیٹرول ڈیزل کے دام کم نہیں کئے گئے تو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب کورونا سے بد حال عوام کو شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان مظاہروں میں کچھ مقامات پر نوجوان نے پیٹرول کی قیمت 100 روپے سے زیادہ ہونے کی مذمت میں مودی حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر مقامی صدر شیخ رشید نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں گزشتہ 80 برس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت عام آدمی کی سہولت کو پیشِ نظر رکھ کر طے کی گئی تھی۔

جبکہ مودی حکومت نے گزشتہ 8 برس کے دوران قیمتوں کو آسمان پر پہنچادیا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں یوپی اے حکومت کے دور میں  بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 100 ڈالر سے زیادہ تھی اس کے باوجود گھریلو قیمتوں پر اس کا اثر نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہےاس کے باوجود ملک  میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ اچھے دن تب آئیں گے جب مودی جی گھر جائے گے۔ مودی حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر 32، 33؍ روپے ٹیکس لگارہی ہے جس کے سبب قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔