16 اراکین کی رکنیت رد کرنے سے متعلق نوٹس پر آج سپریم کورٹ میں سماعت، شندے کو وزیراعلیٰ بننے کا آفر دیا گیا تھا اس کے باوجود انہوں نے بغاوت کی، بالا صاحب ہوتے تو جواب دیتے: آدتیہ

مہاراشٹر کی سیاسی ہلچل اور شیوسینا کا تنازعہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے. 16 باغی اراکین اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر کے نوٹس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے. سپریم کورٹ آج پیر کے روز اس معاملے میں سماعت کرے گی. سنیچر کے روز ڈپٹی اسپیکر نرہری جروال نے 16 اراکین اسمبلی کو رکنیت رد کرنے کا نوٹس بھیجا تھا.
یہ بھی پڑھیں :.... 
اگنی پتھ اسکیم: فوج میں مسلمانوں کا تناسب بڑھانے کا سنہری موقعGuidance.html
دوسری طرف ایکناتھ شندے نے اتوار کے روز مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے سے فون پر بات کی. اطلاعات کے مطابق شندے نے راج ٹھاکرے سے ان کی طبعیت کے بارے میں بات کی اس کے علاوہ مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا.
وہیں آدتیہ ٹھاکرے نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی جانب سے 20 مئی کو ایکناتھ شندے کو وزیراعلیٰ بنانے کا آفر دیا گیا تھا، اس کے باوجود شندے نے بغاوت کی. آدتیہ ٹھاکرے نے شاہ رخ خان کی فلم دل والے کا ڈائیلاگ کہا کہ ہم شریف کیا ہوئے ساری دنیا ہی بدمعاش ہوگئی. آدتیہ نے مزید کہا کہ اگر بالا صاحب ہوتے تو جواب دیتے.
مہاراشٹر میں وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے اکیلے پڑتے جارہے ہیں. ایم ایل اے سے وزیر بننے والے تمام شیوسینا لیڈر باغی ہوکر ایکناتھ شندے کا دامن تھام چکے ہیں. اب ادھو خیمے میں ان کے علاوہ تین وزیر آدتیہ ٹھاکرے، انیل پرب اور سبھاش دیسائی باقی رہ گئے ہیں.
سنجے راؤت نے کہا کہ گوہاٹی میں بیٹھے 40 باغی اراکین اسمبلی زندہ لاش کی طرح ہیں، وہ بے چین ہیں کہ جب وہ ممبئی واپس جائیں گے تو ان کا من مرچکا ہوگا اور ان کی روح وہیں رہ جائے گی. واضح رہے کہ کہ گزشتہ دس روز میں شندے کے پوسٹر سے بال ٹھاکرے غائب ہوچکے ہیں. 16 جون کو شندے کے ایک پوسٹر میں بال ٹھاکرے، ادھو ٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے کی تصویریں شامل تھیں لیکن 26 جون کے پوسٹر میں ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے. باغی لیڈر ایکناتھ شندے نے ایک ویڈیو ٹوئیٹ کیا ہے۔ اس میں باغی ایم ایل اے بھرتشیٹ گوگاوالے کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ڈھائی سال میں 2019 انتخابات میں ہارنے والے شیوسینا اراکین اسمبلی کے ساتھ کوئی میٹنگ نہیں کی۔ اس کے برعکس ڈپٹی چیف منسٹر نے این سی پی کے ان امیدواروں کو فنڈز دیئے جو 2019 میں اسمبلی انتخابات ہار گئے تھے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: