شیوسینا فلور ٹیسٹ کے خلاف جبکہ شندے گروپ فلور ٹیسٹ کے حق میں، کچھ ہی دیر میں سپریم کورٹ فلور ٹیسٹ پر اپنا فیصلہ سنائے گی
مہاراشٹر میں 22 جون کو شروع ہونے والی سیاسی ہلچل مسلسل آٹھویں دن بھی جاری ہے۔ سیاسی ڈرامہ جو سورت سے شروع ہوا اور گوہاٹی تک پہنچا، لیکن اس کا اختتام ابھی باقی ہے۔ دریں اثنا، مہاراشٹر کے گورنر نے کل یعنی 30 جون کو شام 5 بجے تک فلور ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے خلاف شیوسینا سپریم کورٹ پہنچی، جہاں وکلاء نے فلور ٹیسٹ پر 3 گھنٹے 10 منٹ تک دلائل پیش کئے۔ عدالت نے تمام فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ رات 9 بجے مہاراشٹر اسمبلی میں فلور ٹیسٹ پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ عدالت میں شیوسینا کی طرف سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی پیش ہوئے۔ اسی وقت، ایڈوکیٹ نیرج کشن کول، شندے گروپ کی طرف سے پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ منیندر سنگھ نے کول کی دلائل کی حمایت کی۔ آخر میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے گورنر کی طرف سے بحث کی۔
اس سے پہلے سنگھوی نے فلور ٹیسٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ 21 جون کو ہی 16 باغی اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ ایسے میں اکثریت کا فیصلہ ان کے ووٹ سے نہیں ہو سکتا۔ سنگھوی نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو اسپیکر کو اکثریت کا فیصلہ کرنے دیں یا پھر فلور ٹیسٹ ملتوی کریں۔ کول نے کہا کہ مہاراشٹر میں صرف حکومت ہی نہیں، ادھو کی پارٹی بھی اقلیت میں آ گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے فلور ٹیسٹ بہترین آپشن ہے۔ اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شندے کے ساتھ آنے والے اراکین اسمبلی نے شیوسینا نہیں چھوڑی ہے اکثریت ان کے ساتھ ہے اس لیے وہی اصل شیوسینا ہیں۔
کول نے گورنر کے کورونا سے صحت یاب ہونے کے فوراً بعد فلور ٹیسٹ کے حکم کے معاملے پر اٹھائے گئے سوالات پر بھی دلائل پیش کیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کورونا سے صحت یاب ہونے کے فوراً بعد فلور ٹیسٹ کرانے کا سوال کیوں ہے؟ کیا بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد کوئی شخص اپنا آئینی فرض ادا نہیں کرے گا؟ سینئر ایڈوکیٹ منیندر سنگھ نے بھی کول کی حمایت میں دلائل پیش کئے۔ تینوں کے بعد سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے گورنر کے وکیل کی حیثیت سے اپنا موقف پیش کیا۔
2016 اس سے قبل
میں سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش کے برطرف وزیراعلیٰ نبام تکی کی زیر قیادت کانگریس حکومت کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا. سپریم کورٹ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائی کورٹ نے کانگریس کے 14 باغی اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے پر روک لگائی تھی. گورنر سے وزیراعلیٰ نبام تکی سے 14 جنوری 2016 کو اسمبلی اجلاس کرانے کو کہا تھا لیکن گورنر نے دسمبر 2015 میں ہی اجلاس کروایا تھا. اس سے آئینی بحران پیدا ہوا۔ سپریم کورٹ نے گورنر کے فیصلے کو غلط قرار ٹھہرایا۔ اسمبلی کے اسپیکر نبام ربیا نے گورنر کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا.


Post A Comment:
0 comments: