گجرات فساد معاملے میں گجرات کرائم برانچ نے ٹیسٹا سیتلواد، سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ اور سابق ڈی جی پی آر بی شری کمار کے خلاف فرضی دستاویزات بنا کر سازش رچنے کا معاملہ درج کیا
گجرات میں 2002 میں ہوئے بدترین فسادات کے سلسلے میں گجرات اے ٹی ایس نے فعال سماجی کارکن (ایکٹوسٹ) ٹیسٹا سیتلواد اور گجرات کے سابق ڈی جی پی آر بی شری کمار کو حراست میں لے لیا ہے. انہیں سانتا کروز پولیس اسٹیشن لایا گیا ہے اس کے بعد گجرات اے ٹی ایس انہیں احمد آباد لے جانے کی تیاری کررہی ہے.
یہ بھی پڑھیں:.... شیوسینا کارکنان تشدد پر آمادہ، رکن اسمبلی تاناجی شندے کی رہائش پر توڑ پھوڑ
گجرات فسادات کے معاملے میں گجرات کرائم برانچ نے ٹیسٹا سیتلواد، سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ اور سابق ڈی جی پی آر بی شری کمار کے خلاف فرضی دستاویزات بنا کر سازش رچنے کا معاملہ درج کیا ہے. سنجیو بھٹ پہلے سے جیل میں ہیں جبکی ٹیسٹا اور شری کمار کو اب حراست میں لیا گیا ہے. ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے ٹیسٹا سیتلواد کے خلاف سنیچر کو ہی ایف آئی آر درج کی ہے. سپریم کورٹ نے 2002 گجرات فسادات معاملے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دینے والی ایس آئی ٹی رپورٹ کے خلاف پٹیشن کو جمعہ یعنی 24 جون کو خارج کردیا تھا. یہ پٹیشن ذکیہ جعفری نے داخل کی تھی. ذکیہ جعفری کے شوہر احسان جعفری کی ان فسادات میں موت ہوئی تھی.
عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں کو پٹیشنر ٹیسٹا سیتلواد نے ذکیہ جعفری کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہے. عدالت نے اس معاملے میں ٹیسٹا سیتلواد کے کردار کی جانچ کی بات کہی تھی. مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گجرات فسادات سے متعلق غلط اور بے بنیاد اطلاع فراہم کرنے کیلئے ٹیسٹا سیتلواد کی این جی او کی سرزنش کی. شاہ نے ان کی این جی او کی مدد کرنے کیلئے یو پی اے کو بھی نشانہ بنایا تھا. فسادات میں این جی او کے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ ذکیہ جعفری کسی اور کی ہدایت پر کام کرتی تھیں. اس این جی او نے کئی متاثرین کے حلف نامے پر دستخط کئے اور انہیں پتہ تک نہیں ہے. سب جانتے ہیں کہ ٹیسٹا سیتلواد کا این جی او یہ سب کررہا تھا. اس وقت کی یو پی اے حکومت نے این جی او کی بہت مدد کی. گجرات فسادات کو روکنے کیلئے پولیس اور افسران کے مبینہ طور پر کچھ نہ کرپانے کے سوال پر وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی مخالف سیاسی جماعتیں، صحافی اور ایک این جی او نے کسی نظریہ کے تحت الزامات کی تشہیر کی. ان کا ایکو سسٹم اتنا مضبوط تھا کہ لوگ اسے ہی سچ ماننے لگے.


Post A Comment:
0 comments: