ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری، اسدالدین نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر حجاب پہننے سے دقت کیا ہے
آج کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کو درست قرار دیا ہے. عدالت کے اس فیصلے کے خلاف مسلم لڑکیوں نے امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے. کرناٹک کے یادگیر میں ایک سرکاری کالج کی 35 طالبات امتحانی متکز سے باہر نکل گئیں. اسکول کی پرنسپل نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور ہائی کورٹ کے حکم پت عمل کرنے کو کہا لیکن طالبات نہیں مانیں اور امتحانی ہال سے نکل گئیں.
عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے والی طالبات نے سپریم کورٹ جانے کی بات کہی ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حق کیلئے لڑیں گے. عدالت میں اپیل دائر کرنے والی لڑکیوں نے بینگلورو میں ایک ہریس کانفرنس کرکے عدالت کے فیصلے کو اپنے ساتھ ناانصافی بتایا ہے. لڑکیوں کے وکیل ایم دھر نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے ہمیں مایوس کیا ہے، امید ہے کہ سپتیم کورٹ سے انصاف ملے گا.
یہ بھی پڑھیں:..... کرناٹک حجاب معاملہ: حجاب کی حمایت میں داخل تمام درخواستیں خارج
مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے. جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عدالت نے اس فیصلے کو مسلم خواتین کی مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے. اسدالدین اویسی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں، یہ میرا حق ہے. مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر حجاب پہننے سے دقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حجاب پر پابندی آئین کی آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے. جو ملک کے ہر شہری کو مذہب، ثقافت، اظہار رائے اور فن کی آزادی دیتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے مسلم خواتین پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماڈرن بننے کی دوڑ میں ہم مذہبی رسومات کو نہیں بھول سکتے۔
محبوبہ مفتی نے بھی عدالت کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں. انہوں نے کہا کہ حجاب پر پابندی برقرار رکھنے کا کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ نہایت افسوس ناک ہے. ایک طرف ہم خواتین کو طاقتور اور خود مختار بنانے کی بات کرتے ہیں اور پھر ہم انہیں ایک بنیادی سے حق سے محروم کررہے ہیں. یہ صرف مذہب سے جڑا یوا معاملہ نہیں ہے بلکہ انتخاب کی آزادی کا بھی مسئلہ ہے. جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ حجاب کے تعلق سے چاہے کچھ بھی سوچتے ہوں، یہ پہننے کا کوئی کپڑا نہیں ہے بلکہ خواتین کے حقوق کا حصہ ہے. عدالت نے اس بنیادی حق کو برقرار نہیں رکھا یہ افسوناک ہے.
حجاب تنازعہ معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے کہا کہ تمام لوگوں کو عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے. اگر کسی نے ریاست کے امن و امان میں کو خراب کرنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی. راج ناتھ سنگھ نے حجاب معاملے میں عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہر مذہب کے لوگوں کو اسکول کالج کے ڈریس کوڈ کی پاسداری کرنی چاہیے.

Post A Comment:
0 comments: