حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں، لڑکیاں اسکول اور کالج کے طے شدہ یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کر سکتیں: جسٹس رتوراج آوستھی
کرناٹک ہائی کورٹ نے آج اپنا فیصلہ سنایا ہے کہ کرناٹک کے اسکول کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں ملے گی. گذشتہ 74 روز سے جاری اس تنازعہ سے متعلق فیصلے میں ہائی کورٹ نے دو اہم باتیں کہی. ایک یہ کہ حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے، دوسری یہ کہ لڑکیاں اسکول اور کالج کے طے شدہ یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کر سکتیں.
یہ بھی پڑھیں:..... سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے شراب کی دکان میں پتھر برسائے
ہائی کورٹ نے حجاب کی حمایت میں مسلم لڑکیوں اور دیگر لوگوں کی جانب سے دائر کی گئی تمام آٹھ درخواستوں کو جارج کردیا ہے. چیف جسٹس رتوراج آوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس قاضی زیب النساء محی الدین کی تین رکنی بینچ نے ریاستی حکومت کے 5 فروری کو جاری کئے گئے حکم کو مسترد کرنے سے انکار کردیا ہے جس میں اسکول یونیفارم کو ضروری بتایا گیا تھا.
آج ہائی کورٹ میں حجاب معاملے پر فیصلہ سنانے سے قبل جسٹس رتوراج آوستھی نے کہا کہ اس معاملے دو سوالوں پر غور کرنا ضروری ہے. پہلا یہ کہ کیا حجاب پہننا آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کے حقوق میں آتا ہے؟ دوسرا.... کیا اسکول یونیفارم پہننے کیلئے کہنا اس آزادی کی خلاف ورزی ہے؟ اس کے بعد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو صحیح ٹھہرایا.

Post A Comment:
0 comments: