مفرور ہیرا تاجر چوکسی ڈومینیکا پولیس کی حراست میں، ہندوستان حوالگی کیلئے کوشاں
پنجاب نیشنل بینک بدعنوانی معاملہ کے اہم ملزم اور مفرور ہیرا تاجر میہول چوکسی کی گرفتاری سے متعلق اہم خبر گشت کررہی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ مہیول چوکسی کا ڈومینیکا میں سراغ لگایا گیا، وہاں کی پولیس نے اسے حراست میں لے کیا ہے۔اینٹیگوا پولیس کی جانب سے ڈومینیکا انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔گذشتہ کچھ دونوں سے چوکسی اینٹیگوا سے غائب تھا۔ایسا بھی کہا جارہا تھا کہ اس نے اپنا ٹھکانا تبدیل کردیا ہے۔لیکن اب ڈومینیکا پولیس نے چوکسی کو حراست میں لے لیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسے جلد ہی اینٹیگوا پولیس کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ چوکسی 23 مئی اتوار سے اینٹیگوا سے فرار بتایا جارہا تھا۔میہول چوکسی کو آخری مرتبہ اپنی رہائش سے کار میں نکلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔اس وقت یہ قیاس لگایا گیا تھا کہ چوکسی اینٹیگوا چھوڑ کر کیوبا جاسکتا ہے کیونکہ کیوبا میں چوکسی کا ایک عالیشان ذاتی مکان ہے۔لیکن ڈومینیکا میں اس کے ہونے کی خبر ملتے ہی وہاں کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چوکسی کو حراست میں لے لیا ہے۔چوکسی کے اینٹیگوا سے فرار ہونے کی خبر زیادہ حیران کن نہیں تھی کیونکہ ہندوستان مسلسل مطالبہ کررہا تھا کہ میہول چوکسی کی اینٹیگوا کی شہریت کو فوری طور پر رد کیا جائے۔اس لئے وہاں کے افسران پر دباؤ تھا اور چوکسی بھی مستقبل میں پیش آنے والے حالات سے پریشان تھا۔اسلئے چوکسی نے اپنا ٹھکانا تبدیل کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ٹھکانا تبدیل کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد چوکسی ڈومینیکا پولیس کی حراست میں آگیا۔فی الحال وہ ڈومینیکا پولیس کی گرفت میں ہے لیکن بہت جلد اسے اینٹیگوا پولیس کے سپرد کردیا جائے گا۔تاہم ڈومینیکا پولیس کے ذریعے چوکسی کی گرفتاری ہندوستان کیلئے اچھی خبر ہے، کیونکہ اینٹیگوا پولیس کے ذریعے واضح کردیا گیا تھا کہ اگر میہول چوکسی فرار ہونے میں کامیاب رہا اور اسے تلاش نہیں کیا جاسکا تو اس کی بازیابی کا معاملہ متاثر ہوسکتا ہے اور اسے ہندوستان لانے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ہندوستان میہول چوکسی کی حوالگی کیلئے کوشاں ہے۔اطلاعات کے مطابق چوکسی نے متعدد کیریبیائی ممالک کی شہریت لے رکھی ہے اسلئے وہ ہر بار فرار ہونے میں کامیاب رہا۔واضح رہے کہ میہول چوکسی اور نیرو مودی سرکاری پنجاب نیشنل بینک(پی این بی) سے مبینہ طور پر 13،500 کروڑ روپے کی بدعنوانی معاملے کے ملزمین ہیں۔


Post A Comment:
0 comments: