بی جے پی راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی نے چین کے ساتھ سرحد تنازعہ پر اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا
چین اور پاکستان کے مدعے پر اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے بی جے پی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی نے ایک بار پھر وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔چین کے ساتھ سرحد تنازعہ پر سبرامنیم سوامی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے نہرو کی بیماری نے مودی کے جسم پر بھی حملہ کیا ہے۔ٹی وی چینل نیوز ایکس کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سوامی نے چین کے ساتھ سرحد تنازعہ پر کہا کہ آج ہم تدبیر کے معاملے میں کافی مایوس کن مقام پر ہیں۔چین اور پاکستان ایک ساتھ ہوگئے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ امریکہ بھی ہم سے ناراض ہے کیونکہ ہم یہ واضح نہیں کر پارہے ہیں کہ ہم چین سے متعلق امریکی موقف کے حامی ہیں یا دونوں سے تعلق بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔یہی بیماری سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو کی بھی تھی۔اسلئے ایسا لگتا ہے کہ نہرو کی بیماری نے وزیراعظم نریندر مودی کے جسم پربھی حملہ کردیا ہے۔سوامی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ستمبر میں دوبارہ مذاکرات ہونے والے ہیں اور افغانستان پر اپنا حق جتانے والے ہیں، اگلا نمبر ہندوستان کا ہی ہوگا۔کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے پاس جائے گا اور دوسرا چین کے پاس جائے گا، یہی ان کا منصوبہ ہے۔چین اور پاکستان ایک لائحہ عمل کے تحت کام کررہے ہیں جبکہ ہمارے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔سبرامنیم سوامی نے مزید کہا کہ ہم اب تک یہ پتہ نہیں کرپائے ہیں کہ ہمارا دوست کون ہے اور ہمارا دشمن کون ہے۔اگر آپ کسی کے دوست ہیں تو آپ کو بھی دوستی نبھانی ہوگی۔آپ اسرائیل کے ساتھ دوستی کرکے حماس کے حق ووٹ نہیں دے سکتے۔جیسا کہ آپ نے کچھ عرصے قبل ہی کیا ہے۔انہوں نےکہا کہ ان کے مطابق وزارت خارجہ کا دفتر بند کردینا چاہیے اور مودی کو اپنے پاس ہی وزارت داخلہ کا چارج رکھنا چاہیے۔سوامی نے کہا کہ وہ چین سے متعلق ہندوستانی حکومت کے رویے سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔چین کے ساتھ مذاکرت کے ذریعے تنازعہ کو سلجھانے سے متعلق انہوں نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں ہمیں بات چیت کا شوق کیوں ہے؟ یہ سمجھ نہیں آتا۔


Post A Comment:
0 comments: