Articles by "Waqf Amendment Act"
Showing posts with label Waqf Amendment Act. Show all posts

ازقلم حافظ عقیل احمد ملی قاسمی (ترجمان وفاق المدارس والمکاتب مالیگاؤں) 

حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں برسراقتدار حکومت نے جو متنازعہ وقف قانون منظور کیا ہے یہ ہندوستان کے کسی بھی مسلمان کو کسی بھی طرح منظور نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایات کے مطابق پورے ہندوستان کے تمام شہروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انصاف پسند غیر مسلم بھائی بھی اس کی مخالفت کررہے ہیں اور اپنی اپنی سطح پر احتجاج درج کروارہے ہیں۔ 

اسی سلسلے کی ابتدائی کڑی کے طور پر مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف کے زیرِ اہتمام شہر عزیز مالیگاؤں کے تقریباً دو سو مقامات پر کارنر میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا اس کے بعد مورخہ 28 اپریل 2025 بروز پیر شام 7 بجے سے رات دس بجے تک مدرسہ معہد ملت کے وسیع وعریض میدان میں خواتین اسلام کا احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں خواتین اسلام نے امید سے زیادہ تعداد میں شرکت فرما کر اپنی ملی بیداری کا جس طرح ثبوت پیش کیا ہے وہ تاریخ میں درج کیا جائے گا. ان شاءاللہ 

اسی طرح مورخہ 29 اپریل 2025 بروز منگل شام 6 بجے سے رات دس بجے تک بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول کے وسیع وعریض میدان میں برادران اسلام کا احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں برادران اسلام نے تاریخی شرکت فرما کر اپنی ملی بیداری کا ثبوت دیا ہے اور حکومت وقت کے سامنے اپنا سو فیصد احتجاج درج کرواکر یہ ثابت کردیا کہ موجودہ وقف قانون کسی بھی صورت میں مسلمانوں کو منظور نہیں ہے۔ 

اسی طرح مورخہ 29 اپریل 2025 بروز منگل دوپہر 12 بجے ہوٹل مراٹھا دربار کیمپ میں اردو مراٹھی میڈیا کے نمائندوں کی ایک پرہجوم پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر محترم سیکریٹری محترم ترجمان محترم سمیت شہر مالیگاؤں کی سیاسی سماجی ملی جماعتوں کے نمائندہ افراد کے ساتھ ساتھ برادران وطن نے بھی شرکت فرمائی اور اپنے مثبت تاثرات کا اظہار فرمانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات عنایت فرمائے اور انھیں پوری طرح مطمئن کیا اور بذریعہ میڈیا اپنی بات حکومت وقت تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ 

اس کے بعد مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت کے مطابق مورخہ 30 اپریل 2025 بروز بدھ رات 9 بجے سے 9:15 بجے تک بتی گل تحریک میں حصہ لیا اور الحمدللہ سو فیصد مسلم آبادی کے ساتھ ساتھ انصاف پسند برادران وطن نے بھی اپنے اپنے گھروں کی دکانوں کی اور اپنے کاروبار کی لائٹ بند کرکے اس احتجاج کو مکمل طور پر کامیاب بنا کر اتحاد واتفاق کے ساتھ حکومت وقت کو یہ پیغام دیا کہ ابھی تحریک کی ابتداء ہے اگر حکومت وقت نے یہ ظالمانہ وقف قانون واپس نہیں لیا تو مستقبل میں کسی بھی حد تک تحریک چلانے کے لئے ہم پوری طرح تیار اور بیدار ہیں یا تو یہ قانون نہیں رہے گا یا حکومت نہیں رہےگی ان شاءاللہ۔ 

لہذا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایات کے مطابق مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اب تک منعقد ہونے والے تمام پروگرامات اور تحریکات کی کامیابی پر ہم اراکین ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف مالیگاؤں تمام ہی اہلیان شہر مالیگاؤں خصوصاً خواتین اسلام اور برادران اسلام کے ہم تہہ دل سے ممنون ومشکور ہیں کہ یہ سب محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی توفیق وعنایت سے اور اہلیان شہر مالیگاؤں کے سو فیصد تعاؤن کی وجہ سے پرامن طور پر اب تک سو فیصد کامیاب رہا ہے۔

اسی طرح اس نازک وقت میں جس طرح ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف مسالک ومکاتب فکر کے علمائے کرام اور سیاسی سماجی ملی وصنعتی شخصیات نے اپنے بے مثال اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا اور پوری طرح تن من دھن کے ساتھ اب تک تحریک کا ساتھ دیا ہے ہم ان کے بھی ممنون ومشکور ہیں۔ 

اسی طرح شہر عزیز مالیگاؤں کی تمام کلبیں انجمنیں اور اداروں کے وہ جیالے اور جانباز نوجوانوں کے بھی ہم ممنون ومشکور ہیں جنہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے دن رات محنت کرکے اب تک کی تحریک کو کامیاب بنایا ہے۔ 

ہم اراکین ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف یہ واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک کا آغاز ہے آئندہ جب جس طرح کی ہدایات آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے دی جائے گی اس کی روشنی میں مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے شہر عزیز مالیگاؤں میں تحریک کو جاری رکھے گی اور اپنا حصّہ اداکرتی رہے گی ان شاءاللہ۔ 

ہم اراکین ایکشن کمیٹی پوری طرح امید کرتے ہیں کہ جس طرح اب تک برادران اسلام اور خواتین اسلام کے ساتھ ساتھ برادران وطن نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور ہر تحریک کو پوری طرح کامیاب بنانے میں اپنا حصّہ ادا کیا ہے مستقبل میں بھی جب جس وقت جس طرح آواز دی جائے گی اسی طرح  مذہبی مسلکی اور سیاسی سماجی اختلافات کے باوجود اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارا ساتھ دیا جاۓگا اور اپنی ملی بیداری اور غیرت ایمانی کے ساتھ ساتھ شہر عزیز کی شناخت کو برقرار رکھا جائے گا ان شاءاللہ۔ 

جاری کردہ مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف۔

حکومت وقف ترمیمی قانون کے ذریعے وقف املاک پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتی ہے: آفتاب عالم 

مظفرپور:26/اپریل(پریس ریلیز)وقف ترمیمی قانون 2025 کی واپسی کے مطالبے کو لے کر ہفتہ کے روز انصاف منچ کی قیادت میں جیل چوک چندوارہ، قلعہ چوک برہم پورہ، دامودرپور، چینپور بنگرہ، سونبرسا، ترکی گاؤں سمیت کئی دیگر دیہاتوں کے لوگوں نے مظاہرے میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے مظفرپور ڈی ایم دفتر تک "وقف بچاؤ-آئین بچاؤ مارچ" نکالا۔ مارچ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور متحد ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف ترمیمی قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھی ڈی ایم کو سونپا گیا۔

یہ بھی پڑھیں.... وقف قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے دو اہم احتجاجی اجلاسml

ڈی ایم دفتر کے قریب اپنے خطاب میں آر وائی اے کے قومی صدر اور انصاف منچ بہار کے نائب صدر آفتاب عالم نے کہا کہ حکومت وقف ترمیمی قانون کے ذریعے وقف املاک پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون نہ صرف بھارتی آئین کے دیے گئے بنیادی حقوق—آرٹیکل 25 اور 26—کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ حکومت مسلم اقلیتی طبقے کو وقف کے انتظام اور اس کی نگرانی سے باہر کر کے سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔انصاف منچ بہار کے جوائنٹ سکریٹری انجینئر ظفر اعظم ربانی نے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 ہر مذہبی برادری کو نہ صرف ضمیر کی آزادی فراہم کرتے ہیں بلکہ اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے، اور مذہبی و فلاحی ادارے قائم کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا بھی حق دیتے ہیں۔ موجودہ ترمیمی قانون مسلمانوں کو اس بنیادی حق سے محروم کر دیتا ہے۔ مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈوں کے قیام سے متعلق ترمیمات اس کی زندہ مثال ہیں۔ اسی طرح وقف عطیہ دہندہ کے لیے مسلسل پانچ سال "عملی مسلمان" ہونے کی شرط نہ صرف آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے بلکہ شریعت سے بھی متصادم ہے۔انصاف منچ کے معروف سماجی رہنما کامران رحمانی نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون آئین مخالف ہے، حکومت کو چاہیے کہ ملک کے مفاد میں اس قانون کو فوراً واپس لے۔ انصاف منچ کے رہنما اعجاز احمد نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون کی واپسی تک انصاف منچ کی جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔اس موقع پر پروفیسر فاروق احمد صدیقی، آفتاب عالم، ظفر اعظم، انصاف منچ کے معروف سماجی رہنما کامران رحمانی، اعجاز احمد، خالد رحمانی، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہار کے جنرل سکریٹری محمد اشتیاق، عارف حسین، توسیف عالم، ایڈوکیٹ محمد اشتیاق، مالے رہنما پرشو رام پاٹھک، ہوریل رائے، شفیق الرحمٰن، ایڈوکیٹ مکیش پاسوان، مفتی سناءالہدی قاسمی،مفتی اقبال احمد قاسمی، مفتی شمیم القادری، شیعہ عالم اسد یاور، مفتی مطیع الرحمن رضوی، مفتی عرفان قاسمی، منور اعظم، ڈاکٹر منیب مظفرپوری، سابق میئر امیدوار وسیم احمد منا، اور قاری ذکی امام وغیرہ نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔


وقف قانون سے متعلق گمراہ کرنے والوں کے جھانسے میں نہ آئیں، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں احتجاج کے لئے ایکشن پلان تیار

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے وقف (ترمیمی) ایکٹ کو واپس لئے جانے تک ملک گیر احتجاج جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے وقف (ترمیمی) ایکٹ کو واپس لئے جانے تک ملک گیر احتجاج جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... ادھو اور راج ٹھاکرے ہوں گے ساتھ ساتھ...دونوں طرف سے اتحاد کا اشارہition-Row-And-Mumbai-Civic-Poll.html

مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے عوام پر زور دیا کہ وہ کچھ عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں سے گمراہ نہ ہوں کہ مزید احتجاج کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے "وقف بائے یوزر" کی شق کو قبول کرلیا ہے اور اس سے اشارہ ملتا ہے کہ وقف املاک کے انتظام میں صرف مسلمانوں کو اجازت دی جائے گی۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر دفتر دارالسلام میں ہفتہ کی رات منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔

مختلف مسلم تنظیموں اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے قائدین نے اس جلسہ عام سے خطاب کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ 

وقف (ترمیمی) قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مقررین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ مرکز مسلمانوں کی مساجد، قبرستانوں، عیدگاہوں، درگاہوں اور دیگر وقف املاک کو چھین کر ان کی مذہبی شناخت کو ختم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔

پرسنل لا بورڈ نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں احتجاج کے لئے ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے۔ اس نے ٣٠ اپریل کو ١٠ منٹ کے لئے تمام لائٹس بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ بتّی گل احتجاج رات 9 بجے سے ہوگا۔

18 مئی کو حیدرآباد میں ایک راؤنڈ ٹیبل میٹنگ ہوگی ،جس میں دیگر برادریوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔ اسی طرح کے اجلاس دونوں تیلگو ریاستوں کے تمام اضلاع میں منعقد ہوں گے۔

22 مئی کو شہر کے وسط میں واقع مساب ٹینک کے ہاکی گراؤنڈ میں خواتین کا ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ 25 مئی کو حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں انسانی زنجیر بنائی جائے گی. یہ نصف گھنٹے کا پروگرام دوپہر دو بجے شروع ہوگا. اس کے علاوہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکم جون کو اندرا پارک دھرنا چوک میں دو گھنٹہ طویل احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے. مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس اجلاس میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مجلس اتحاد المسلمین رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی،ڈی ایم کے ایم پی ایم ایم عبداللہ، بی آر ایس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ محمد محمود علی اور وائے ایس آر کانگریس پارٹی لیڈر سابق رکن اسمبلی اندھرا پردیش عبدالحفیظ نے عوام سے خطاب کیا. خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ایکٹ میں معمولی تبدیلیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک اس قانون کو واپس نہیں لیا جاتا پر امن احتجاج جاری رہے گا.

سپریم کورٹ نے اس قانون کو کالعدم قرار نہیں دیا ہے۔ خالد سیف اللہ رحمانی نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اس ایکٹ کو ختم کرکے انصاف کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ میں کئی دیگر شقیں بھی شامل ہیں جو وقف املاک کے مفادات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لمیٹیشن ایکٹ سے استثنیٰ کا مطلب یہ ہوگا کہ 12 سال یا اس سے زیادہ عرصے سے وقف املاک پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے والے ان کے مالک بن جائیں گے۔ اے آئی ایم پی ایل بی کے صدر نے کہا کہ اس قانون کے تحت وراثت قرار دی گئی مساجد اور دیگر وقف املاک کو وقف املاک نہیں سمجھا جائے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ترمیم شدہ قانون کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو پانچ سال سے مسلمان ہے وہ اپنی جائیداد وقف کے طور پر عطیہ کرسکتا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کو تمام ہندوستانی مسلمانوں کا نمائندہ پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے خالد سیف اللہ رحمانی نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور اس کے حامی اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے وقف کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی اور اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

"ہماری طاقت ہمارا ایمان اور اتحاد ہے. اگر یہ ٹوٹ گیا تو ہم شریعت کا تحفظ نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں بل کے خلاف ووٹ دینے پر اپوزیشن جماعتوں کے غیر مسلم ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔