Articles by "Career Guidance"
Showing posts with label Career Guidance. Show all posts

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے زیر اہتمام کامیاب مشاورتی میٹنگ، عنقریب ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان

مالیگاؤں: گزشتہ روز شہر کے تعلیم یافتہ ,سنجیدہ مزاج اور ترقی پسند افراد کی تنظیم مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ (ایم ڈی ایف) کی جانب سے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کوالیٹی بیکری ہال, عبد اللہ نگر میں ہوا۔جس میں ایم ڈی ایف کی دعوت پرشہر کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ 

ڈاکٹر محب الرحمن کی قرآت سے اس میٹنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس میٹنگ کے اغراض و مقاصد ایم ڈی ایف کے نائب صدر فرنود رومی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم فی الوقت چار اہم مدّعوں پر فوکس کررہے ہیں جن میں تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور اسپورٹس شامل ہیں۔آج کی میٹنگ تعلیم سے متعلق ہے سو ہم ایسی فیلڈ کی طرف ہمارے نوجوانان کی توجہ دلانا چاہتے ہیں جن میں سرکاری سیٹیں خالی ہیں مگر ہمارے نوجوان اس طرف رخ نہیں کرتے۔

ایم ڈی ایف کے صدر جناب پروفیسر حبیب الرحمن نے اپنے تمہیدی خطاب میں کہا کہ ہمیں کیرئیر گائیڈنس ورکشاپ کا اہتمام کرتے ہوئے ہر ہفتہ یا ہر مہینہ مختلف فیلڈ کے ماہرین کو بلا کر طلبہ کی ذہن سازی کرنی ہے۔اور مختلف کمیٹیاں بنا کر الگ الگ شعبوں سے متعلق ورکشاپ کرنے ہیں. مہمان مقرر شیخ علقہ نے کہا کہ اس وقت انٹرنیشنل لیول پر جس فیلڈ کی زیادہ ڈیمانڈ ہےاس طرف طلبہ کو راغب کرنے کی ضرورت ہے.اس حوالے سے مختلف آن لائن اسکلز سیکھ کر طلبہ برسر روزگار ہوسکتے ہیں۔

امگا ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر افضال صاحب نے کہا کہ پرائمری لیول سے ہی طلبہ کی ذہن سازی ہو تو آگے جا کر طلبہ حیران نہیں ہوں گے۔الکبیر انگلش میڈیم اسکول کے ہیڈماسٹر جناب نور الدین نور نے کہا کہ اکیڈمک سے ہٹ کر طلبہ کی رہنمائی کی جائے اور ان کی شخصیت سازی پر زور دیا جائے۔

پروفیسر ساجد نعیم نے بتایا کہ جس طرح ہم نےپونے میں انیس کٹی سر کی کلاسیس کا دورہ کیا اور ان کے طریقہ تدریس سے متاثر ہوئے، اسی طرز پر، اسی انداز سے مالیگاؤں میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔اور این ڈی اے میں طلبہ کو آگے لانا ہے.شکیل ہمدانی صاحب نے کہا کہ طلبہ اور سرپرستوں کے بیچ کا گیپ ختم ہو اور کسی بھی چیز کو طلبہ پر جبری تھوپا نہ جائے ۔

یونس خان سر نے کہا کہ طلبہ کو ڈیفنس کے شعبے میں لے جایا جاسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ طلبہ کے اندر اس قسم کا عزم و حوصلہ ہو۔معروف سوشل ورکر ببو ماسٹر نے کہا کہ سیاسی طور پر بھی مضبوطی تعلیمی بیداری کے لیے ضروری ہے۔پڑھے لکھے لوگوں کو سیاست میں لا کر تعلیمی میدان میں قابل قدر کام کروائے جاسکتے ہیں۔اظہر خان (سیتو یونین)نے کہا مزدور گھرانے کے طلبہ کو اسکالرشپ کیسے ملے اس بات کی طرف توجہ و رہنمائی کی جانی چاہیے.

مولانا علقمہ کی دعا اور صدر ایم ڈی ایف کے رسم شکریہ پر اس میٹنگ کا اختتام ہوا۔ملحوظ رہے کہ ایک گوگل فارم کے ذریعے مالیگاؤں کے پڑھے لکھے طبقے سے ان کی آراء اور مشورے مانگے گئے تھے۔الحمد للہ کثیر تعداد میں لوگوں نے اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔ان سبھی آراء کی روشنی میں عنقریب ایکسپرٹ کی چھ مختلف کمیٹیوں کا اعلان کیا جائے گا۔


کوچنگ سینٹرزکی بینر بازی اور کامیاب طلبہ کی استقبالیہ تقاریب کے پرے بڑھتا ہوا ڈراپ آؤٹ


مالیگاؤں (ایس این انصاری) شہر میں سینکڑوں ہائی اسکول اور درجنوں جونیئر کالجس موجود ہیں. ہر سال طلباء و طالبات کثیر تعداد میں نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کرتے ہیں. ان تمام کامیاب طلباء و طالبات اور ان کے سرپرست حضرات کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ کریئر اور روزگار کو لیکر ہوتا ہے.
یہ بھی پڑھیں:...
ہم شریف کیا ہوئے ساری دنیا ہی بدمعاش ہوگئی: آدتیہ ٹھاکرے
شہر میں اکثر یہی نظارہ دیکھا جاتا ہے کہ چنندہ طلباء کی تصاویر اخبارات , بینر بازی اور استقبالیہ پروگرام منعقد ہوتے ہیں. ہر لیڈران کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ نتائج ظاہر ہونے کے وقت ایک روپیہ والی پرنٹ نکال کر اور استقبالیہ فوٹو اخبارات میں شائع کر سستی شہرت حاصل کی جائے. وہیں دوسری جانب اپنی قابلیت کی بناء پراول مقام اورنمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی تصاویر کو مختلف کوچنگ سینٹرز کی بینر بازی کے پرے ایسے ہزاروں طلبہ جو ہر سال اعلی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں. انھیں صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے تعلیم قطع کرنا پڑھتی ہے.

شہر میں یوں سے ہر کوچنگ سینٹرز یہ دم ڈھوکتا نظر آتا ہے کہ وہ تمام طلبہ کو فری سیٹ پر ایم بی بی ایس, آئی آئی ٹی اور دیگر اعلی تعلیمی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری اور کامیابی دلا دے گا. لیکن اس کے بر عکس صرف ایک یا دو ہی طلبہ کا فری سیٹ پر داخلہ ممکن ہوتا ہے. باقی طلبہ کا تعلیم نقصان ہوتا ہے جس کے بعد انھیں صحیح رہنمائی نہ ملنے سے در در بھٹکنا پڑھتا ہے.

دوسری جانب شہر کے لیڈران سستی شہرت کے چکر میں طلبہ و سرپرست حضرات کو بڑی بڑی ہانکنے لگتے ہیں جنھیں آئی آئی ٹی اور آئی ٹی آئی میں فرق تک نہیں پتہ ایسے افراد بھی طلبہ کے کریئر کو لیکر گمرہ کردیتے ہیں. شہر میں ایسے بہت سارے سماجی گروپ ہیں جو استقبالیہ تقاریب میں ہمیشہ نظر آتے ہیں. جیسے انھوں نے استقبالیہ تقاریب کا ٹھیکہ لیا ہو. جیسے کچھ لیڈران میت کے انتظار میں رہتے ہیں اور قبرستان میں ہر میت میں نظر آتے ہیں.

آج شہر میں دسویں اور بارہویں کامیاب اور ناکامیاب دونوں ہی طلباء و طالبات کے ساتھ سرپرست حضرات کیلئے تعلیمی رہنمائی پروگراموں کو منعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے. طلبہ کو ان کے شوق اور نمبرات کے پیش نظر بہتر کریئر بنانے کے مواقع کی رہنمائی فراہم کرنا چاہئے. بڑے کورسیس کے علاوہ ایسے چھوٹے کورسیس جس میں پیرا میڈیکل, ڈپلومہ اور سرٹیفیکیٹ کورسیس کی معلومات دی جائے جس سے طلبہ فوری طور پر روزگار سے جڑیں.