چارج شیٹ داخل ہونے سے پہلے  عدالت میں درخواست ضمانت داخل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا تھا، جلد ہی دیگر ملزمین کی درخواست ضمانت داخل کی جائے گی: ایڈوکیٹ عظیم خان

مالیگاؤں :پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف 12 نومبر 2021 کو مالیگاؤں میں احتجاج کیا گیا جبکہ اس دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔جس کے الزام میں مالیگاؤں پولیس نے 50 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ان پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ کئی کوششوں کے بعد بھی ان کی ضمانت کا کوئی راستہ نہیں نکلا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:....
اترپردیش:نتائج کے بعد لکھنئو میں یوگی کا خطاب، جیت کی خوشی منائی
اس سلسلے ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان نے نمائندے کو تفصیل فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ مالیگاؤں تشدد معاملہ میں سٹی پولیس اسٹیشن میں داخل مقدمہ نمبر 74 75 میں محمد مستقیم ڈگنیٹی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اور یہ الزام عائد کیا گیا کہ مالیگاؤں بند سے بہت پہلے متعدد مقامات پر میٹنگ لی گئی اور شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی چارج شیٹ کے مطابق محمد مستقیم ڈگنیٹی نے پہلے اسکس ہال میں تقریر کی پھر کمپاونڈ میں اور جمعہ بند کے دوران جلوس میں شامل بھی رہے۔ اور ان کی تقریر کی وجہ سے تشدد برپا ہوا۔ عبدالعظیم خان نے مزید کہا کہ چارج شیٹ داخل ہونے سے پہلے انہیں نے عدالت میں درخواست ضمانت داخل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا ۔ پولیس نے عدالت کو گمراہ کیا تھا کہ ان کے پاس بھنگار بازار کے کئی دکاندار کا 164 کے تحت بیان درج ہے ۔جس کے سبب درخواست ضمانت مسترد کردی گئی تھی۔
انہوں نے کہا چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ہم نے واپس سے عدالت میں درخواست ضمانت داخل کی اور عدالت کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے نظائر بتائے اور اس بات روشنی ڈالی گئی کہ مالیگاؤں امن و امان کا شہر ہے یہاں ہمیشہ سے ہندو مسلم اتحاد رہا ہے۔ عبدالعظیم خان نے کہا کہ محمد مستقیم ڈگنیٹی نے پریس کانفرنس لیتے ہوئے ریلی کی شکل میں خودسپردگی کی تھی جبکہ پولیس نے بتایا کہ مستقیم ڈگنیٹی کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ عدالت نے سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ثبوت کو دیکھنے کے بعد باریک بینی سے مطالعہ کرنےکے بعد مستقیم ڈگنیٹی سیمت دو افراد کی درخواست ضمانت منظور کردی گئی ۔ انہوں نے کہا اس بنیاد پر دیگر گرفتار شدگان کی درخواست ضمانت داخل کی جائے گی ۔


Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: