National,India, Politics,UP,UP Election 2022,AIMIM,Asaduddin Owaisi,Firing Incident,Arrested,News18 Urdu News,Dailyhunt Urdu News,Malegaon News

اویسی نے کہا یہ منصوبہ بند سازش ہے پورے معاملے کی جانچ ہونی چاہیے، حملہ آوروں کے قبضے سے غیر قانونی پستول برآمد

اترپردیش کے ہاپوڑ میں آج شام مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کے قافلے پر حملہ کرنے والے دونوں نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ حملہ آوروں نے چار راونڈ فائرنگ گاڑی کے نچلے حصے میں دو گولیاں لگیں۔ اس حملے میں اویسی محفوظ رہے۔ اس معاملے پر دیر شام اویسی نے کہا کہ یہ منصوبہ بند سازش ہے اس واقعہ کی جانچ ہونی چاییے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ: مزید ایک گواہ اپنے بیان سے منحرف

واقعہ کے بعد حملہ آور موقع پر ہی ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا تھا۔ جس کا نام سچن ہے۔ وہ گریٹر نوئیڈا میں واقع سابق وزیر اعلی مایاوتی کے گاؤں بدلاپور کا رہنے والا ہے۔ دیر شام پولیس نے دوسرے مفرور ملزم شبھم کو بھی غازی آباد ضلع کے سہانی گیٹ پولیس اسٹیشن کی حدود سے گرفتار کرلیا ہے۔ کچھ پوسٹرز میں بی جے پی لیڈران کے ساتھ بھی نظر آرہا ہے۔ فیس بک پروفائل میں اس نے خود کو دیش بھکت سچن ہندو بتایا ہے۔ وہیں ایک تصویر میں وہ ہرا کرتا پہنے ہوئے گوتم بدھ نگر کے رکن پارلیمان ڈاکٹر مہیش شرما کے ساتھ بھی دکھائی دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مجلس سربراہ اسدالدین اویسی پر جان لیوا حملہ

اویسی آج جمعرات کی شام میرٹھ ضلع کے کٹھور علاقے میں ایک اجلاس کے بعد ہاپوڑ غازی آباد ہوتے ہوتے دہلی جارہے تھے۔ ہاپوڑ کے پلکھوا علاقے کے نیشنل ہائی وے پر چھجارسی ٹول پلازہ سے گزرنے کے دوران دو نوجوانوں نے اویسی کے قافلے پر پستول سے فائرنگ کردی۔ دو گولیاں اویسی کی گاڑی کے نچلے حصے میں لگیں۔ فائرنگ سے ٹول پلازہ پر افراتفری مچ گئی، ہاپوڑ اور غازی آباد کی ہولیس موقع واردات پر پہنچی۔

اس معاملے میں اے ڈی جی پرشانت کمار نے بتایا کہ اویسی کے قافلے پر حملے کی خبر ملی، وہاں کے ویڈیو فوٹیج نکالنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ دو نوجوانوں نے فائرنگ کی ہے۔ ایک کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا نام سچن ہے۔ اس کے پاس سے غیر قانونی پستول ملی ہے۔ ویڈیو فوٹیج سے واضح ہے کہ وہ اس واردات میں شامل ہے۔ واردات کی وجہ کیا تھی اس تعلق سے انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔ اے ڈی جی نے بتایا کہ اس تعلق سے تفتیش جاری ہے۔ حالانکہ کچھ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اویسی کے بیانات سے ناراض ہوکر نوجوانوں نے فائرنگ کی ہے۔ اویسی نے بتایا کہ بائیک پر سوار دو نوجوانوں نے فائرنگ کی اس میں سے ایک نے ہوڈی اور دوسرے نے سفید جیکٹ پہنا ہوا تھا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے تفتیش جاری ہے۔ اویسی نے ہاپوڑ ضلع کے  اے ایس پی سے فون پر بات کی۔ اے ایس پی نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے اور ہھتیار برآمد کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور نوجوان واردات کے بعد خود چھجارسی پولیس اسٹیشن پہنچا۔ حالانکہ اس نے حملہ کیوں کیا اس تعلق سے پولیس نے اب تک کچھ بتایا نہیں ہے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: