اے ٹی ایس افسران نے ہراساں کرکے آر ایس ایس لیڈران کے نام لینے کا دباؤ بنایا، عدالت میں گواہ کا بیان, اب تک کل 17 گواہ منحرف
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ میں 17 واں گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا ہے۔ آج عدالت میں اس گواہ نے کہا کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس کے افسران نے اسے تین چار دن تک یرغمال بنا کر رکھا اور ہراساں کرکے آر ایس ایس لیڈران کا نام لینے کیلئے دباؤ بنایا۔ اس سے قبل 15 نمبر کے گواہ نے اے ٹی ایس افسران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس پر یوگی آدتیہ ناتھ کا نام لینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مجلس سربراہ اسدالدین اویسی پر جان لیوا حملہ
گواہ نے عدالت میں گواہی دی کہ اے ٹی ایس نے اس کا بیان اس وقت درج کیا تھا جب وہ اس معاملے کی تفتیش کررہے تھے لیکن بعد میں این آئی اے نے اس معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں 220 لوگوں کی گواہی لی گئی تھی جس میں سے اب تک 17 گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوچکے ہیں۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ اس وقت اے ٹی ایس کے ایڈیشنل کمشنر تھے، جب انہوں نے مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی جانچ کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بی جے پی نہیں سماجوادی کو ووٹ دیں، میں اور میری ماں چور کی حمایت نہیں کریں گے: ورون گاندھی کے نام سے آڈیو وائرل-Varun-Gandhi.html
اس سے قبل اگست میں لیفٹننٹ کرنل پروہت کے خلاف بیان دینے والا گواہ بھی اپنے بیان سے مکر گیا تھا۔ جس کے بعد خصوصی این آئی اے عدالت نے اسے باغی قرار دیا تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل پروہت کے علاوہ اس معاملے کے دیگر ملزمین میں بھوپال سے بی جے پی رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجر رمیش اپادھیائے، اجئے رہیرکر، سدھاکر دیویدی، سدھاکر چترویدی اور سمیر کلکرنی شامل ہیں۔ یہ سبھی ضمانت پر باہر ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے کی ملزم سادھوی پرگیہ اور اس کے 6 ساتھیوں کو اپریل 2017 میں بامبے ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔ پرگیہ کو 5 لاکھ روپے نجی مچلکے پر ضمانت دی گئی تھی۔ تب عدالت نے کہا تھا کہ سادھوی کے خلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سادھوی خاتون ہے اور 8 سال سے زیادہ عرصہ سے جیل میں قید ہے، اسے بریسٹ کینسر ہے اور وہ کمزور ہوگئی ہے، بنا سہارے چلنے کیلئے بھی لاچار ہے۔

Post A Comment:
0 comments: