National,India,Economics,Tax,GDP,Finance,Financial Inequality,Coronavirus,Covid-19,Pandemic,Unemployment,Income,Wealth,Wealth Tax,Super Rich Tax

امیروں سے اضافی ٹیکس سے سرکاری خزانے میں 9.15 لاکھ کروڑ روپے آئیں گے، آئی آر ایس کی سروے رپورٹ میں چشم کشا انکشافات

اپریل 2020 میں ملک کے 50 سے زائد آئی آر ایس افسران نے کرونا وباء کے دوران معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے امیروں سے اضافی ٹیکس وصول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انڈین ریوینیو سروس(آئی آر ایس) کے ان افسران نے سُپر رچ پر کرونا سِس ٹیکس اور 5 کروڑ سے زیادہ اثاثہ رکھنے والوں پر ویلتھ ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس نے ان افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بگ باس کنٹیسٹنٹ ابھیجیت نے سلمان خان کو دھمکی دی-Khan.html

 اب ایف آئی اے انڈیا کے سروے میں شامل 24 شہروں کے 84 فیصد لوگوں نے امیروں سے اضافی ٹیکس وصولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دراصل کرونا وباء کے دوران سرکاری خزانہ خالی ہونے کے بعد پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس پر ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیٹرول قیمت 100 روپے کے پار اور رسوئی گیس کی قیمت 1000 روپے پہنچ گئی۔ سروے میں لوگوں نے عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے امیروں سے اضافی ٹیکس وصول کرکے اس کی بھرپائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

اس مضمون میں یہ تمام تفصیلات موجود ہیں کہ اضافی ٹیکس وصولی سے متعلق کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟ ویلتھ ٹیکس یا سپر رچ ٹیکس کیا ہوتا ہے؟ امیروں سے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا تو سرکاری خزانے میں کتنا روپیہ آئے گا؟ دنیا کے کن ممالک میں ویلتھ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ٹیم انڈیا کا کپتان بننے کیلئے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے: ہربھجن سنگھ

بجٹ 2022 سے قبل فائٹ ان ایکوالیٹی الائنس انڈیا( ایف آئی اے) نے ملک کے 24 شہروں میں ایک سروے کیا ہے۔ اس سروے میں 3 ہزار سے زائد لوگوں کو شامل کیا گیا۔ 84 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ کرونا وباء کے دوران بڑی آمدنی کرنے والے امیروں سے اضافی ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔ دراصل کرونا وباء کے دوران ملک میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کے نام پر زیادہ پیسہ وصولنے کی بجائے امیروں سے اضافی ٹیکس وصول کرے۔ اور اس رقم کا استعمال حکومت صحت، تعلیم اور غریبی دور کرنے کیلئے کرے۔

مرکزی حکومت جب مجموعی اثاثہ پر ٹیکس لگاتی ہے تو اسے ویلتھ ٹیکس کہا جاتا ہے۔ 2015 تک ملک میں کسی کے شخص کے پاس 30 لاکھ تک اثاثہ ہوتا تھا تو اسے ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔2016 میں بجٹ تقریر کے سابق وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ ویلتھ ٹیکس سے سرکاری خزانے میں محض 1008 کروڑ روپے آتے ہیں اسلئے اسے ختم کیا جاتا ہے۔

اسی طرح جب ملک میں طے شدہ اوسط آمدنی سے زیادہ آمدنی کرنے والے امیروں سے اضافی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تو اسے سپر رچ ٹیکس کہا جاتا ہے۔ 2019 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں پر سپر رچ ٹیکس لگانے کے کچھ ہی دنوں بعد حکومتِ ہند نے اسے واپس لے لیا تھا۔

مارچ 2020 سے نومبر 2021 کے درمیان ہندوستان کے قریب 100 امیروں کا اثاثہ 25.5 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 53.92 لاکھ کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب امیروں کے مجموعی اثاثہ میں 150 گنا سے بھی زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔آکس فیم کی رپورٹ کے مطابق کرونا وباء کے دوران امیر مزید امیر جبکہ غریب مزید غریب ہوئے ہیں۔ مارچ 2020 سے نومبر 2021 تک وباء کے دوران گوتم اڈانی کی دولت میں 3 گنا کا اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران مکیش امبانی کی دولت میں 35% اضافہ کے ساتھ بڑھ کر 7.50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔وہیں کرونا کی دوسری لہر کے دوران مختلف سیکٹر میں قریب ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ 97% خاندانوں کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ 2020 میں قریب 4.6 کروڑ ہندوستانی غریب ہوئے ہیں۔ جب یہ سب ہورہا تھا تب ہی ملک کے امیر لوگ اپنی دولت میں تیزی سے اضافہ کررہے تھے۔

ہندوستان میں کرونا ویکسن بنانے والی کمپنی سیرم انسٹیٹیوٹ اور بھارت بایوٹیک کی آمدنی میں بھی 2 ہزار سے 4 ہزار فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ایف آئی اے انڈیا کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ 37.52 کروڑ روپے سے زیادہ اثاثہ والوں سے 2 فیصد، 375 کروڑ روپے سے زیادہ اثاثہ کے مالکین سے 3 فیصد اور 7500 کروڑ سے زیادہ اثاثہ کے مالکین سے 5 فیصد ویلتھ ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔ ایسا ہوتا ہے تو سرکاری خزانے میں سالانہ 5.85 لاکھ کروڑ روپے آئیں گے۔ جس سے امیری اور غریبی کی عدم مساوات ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اتنے بجٹ میں صحت کے بجٹ میں  271فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔


دنیا کے پانچ ممالک میں ویلتھ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے:

دنیا کے جن ممالک میں سب سے زیادہ ویلتھ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ان میں پرتگال سرفہرست ہے جہاں 61.3 فیصد ویلتھ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں 1950 سے 2015 تک ویلتھ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا لیکن کم آمدنی ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اس وقت کے وزیرمالیات ارون جیٹلی نے اسے ختم کردیا تھا۔ ویلتھ ٹیکس کو چھوڑ دیں تو کمائی پر ٹیکس وصولنے میں جاپان سب سے آگے ہے۔ جاپان میں کمائی پر 55%، ساؤتھ کوریا میں 50%، فرانس میں 45%، یو کے میں 40%، اور امریکہ میں 40% ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ان ممالک میں تعلیم اور صحت کی سہولیات مفت ہونے کی وجہ سے اس پر لوگوں کا نا کے برابر خرچ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں کمائی پر 30% ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، ملک میں جن ملازمت یا بزنس کرنے والوں کی آمدنی 15 لاکھ سے زیادہ ہے ان سے 30% ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔


عدم مساوات کے خاتمے کیلئے ماہرین کی رائے:

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن کہتے ہیں کہ سماجی عدم مساوات بغاوت کی صورت حال کو جنم دے سکتی ہے۔  ایسے میں فوری طور پر اس سے نمٹنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔  عدم مساوات کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوتی ہے۔ اس سے مارکیٹ میں مانگ نہیں بڑھتی اور ملکی معیشت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ نوبل انعام یافتہ ہندوستانی نژاد امریکی ابھیجیت بنرجی کا بھی ماننا ہے کہ سپر امیروں پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویلتھ ٹیکس لگا کر حکومت سماجی عدم مساوات کو کم کر سکتی ہے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: