سماجوادی امیدوار کو دینے اور بی جے پی امیدوار کو ووٹ نہ دینے سے متعلق وائرل آڈیو ورون گاندھی سے منسوب، ورون گاندھی نے انکار کیا

اترپردیش کے پیلی بھیت میں بی جے پی رکن پارلیمان ورون گاندھی کے نام سے ایک آڈیو کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں دو لوگوں کی بات چیت ہے۔ ایک شخص بی جے پی کارکن سے کہہ رہا ہے کہ سماجوادی کے امیدوار کو ووٹ دیجئے بی جے پی کے نہیں۔ بی جے پی والے کو نالی سے نکال کر میں نے لیڈر بنایا اس نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ میری اور میری ماں کی سیاست چور اور بے ایمان کی حمایت نہیں کرے گی۔ ہیمراج کو ووٹ دے دو۔ اس آڈیو میں بی جے پی امیدوار سوامی پرووکتا نند پر تنقید بھی کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس آڈیو کو ورون گاندھی سے منسوب کرکے وائرل کیا جارہا ہے۔ حالانکہ دینک بھاسکر نے جب ورون گاندھی سے اس تعلق سے فون پر بات کی تو انہوں نے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈیو میں کہیں نام کا ذکر نہیں ہے۔ اس آڈیو کو میرا آڈیو ثابت خرنا غلط ہے۔دراصل ورون گاندھی اس سے قبل بھی اپنی ہی سرکار کے خلاف آواز بلند کرچکے ہیں۔اس لیے لوگوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آڈیو میں ورون گاندھی ہی ہیں اور بی جے پی سے ناراضگی کے سبب بی جے پی امیدوار کو ہرانے کیلئے سماجوادی امیدوار کو کامیاب کرنے کی بات کررہے ہیں۔ اس وائرل آڈیو سے متعلق سوامی پرووکتا نند نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس پورے معاملے پر کچھ نہیں کہنا ہے پارٹی کے اعلی حکام خود پورے معاملے کو دیکھیں گے۔ 
برکھیڑا اسمبلی حلقہ سے سماجوادی امیدوار ہیمراج ورما نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ میں نے ورون گاندھی کے خلاف الیکشن لڑا اور ہار گیا اور وہ رکن پارلیمنٹ بن گئے۔ عوامی نمائندوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ اگر وہ سرکار میں ہیں تو عوام کیلئے کام کریں اور اچھے اچھے قانون بنوائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کسی مدعے پر کوئی کام نہیں کرسکی نہ ہی عوام کے منسلک کسی مدعے پر پارلیمنٹ کی بات مانی گئی۔ اسلئے وہ عوام کی آواز اٹھانے لگے۔
Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: