وارنٹ کے متعلق سوامی پرساد موریا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اتنا ہی نہیں ابھی اور بہت کچھ ہوگا
یوگی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت سے دلت لیڈر اور یوپی کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ کے استعفیٰ کے ایک روز بعد سلطان پور میں نفرت پر مشتمل تقریر کے ایک معاملے میں گرفتاری کا ورانٹ جاری کیا گیاہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔اسدالدین اویسی کے نام حضرت مولانا سجاد نعمانی کا کھلا خط
موریا پر الزام تھا کہ 2014 میں جب وہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کا حصہ تھے اس وقت ہندو دیوی دیوتاؤں کے خلاف تقریر کی تھی۔ اپنی تقریر میں 2014 کے دوران موریا نے کہاتھا کہ دیوی گوری اور بھگوان گنیش کی شادیوں کے دوران پوجا نہیں کرنی چاہئے۔ اونچی ذات والوں کی ایک سازش ہے تاکہ دلتوں او رپسماندہ طبقات کو گمراہ کیاجاسکے۔قابل غور بات تو یہ ہے کہ یہ تقریر دلتوں کی جانب سے برہمنیت کے اور ذات پات کے نظام کے خلاف چلائی جانے والی تحریکوں کی مخالف ثقافت کا حصہ تھی۔
اگرچکہ کے موریا کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہا گیا تھا مگر وہ حاضر نہیں ہوئے اور اب ان سے کہا گیا کہ وہ 24 جنوری کو مذہبی نفرت بھڑکانے کے معاملے میں حاضر ہوں۔ جب وارنٹ کے متعلق پوچھا گیا تو موریا نے اس تبدیلی پر قہقہہ لگایا اور کہا کہ اتنا ہی نہیں ابھی اور بہت کچھ ہوگا۔
اپنے استعفیٰ کے مکتوب میں منگل کے روز انہوں نے کہاکہ سماج کے پسماندہ اور دلت طبقات کو ایک کونے میں کردینے کی وجہہ سے وہ مایوس ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت میں ان کے بیٹے اتکرش موریا کو مناسب مقام نہیں دیا گیا ہے اس وجہہ سے بھی وہ مایوس ہیں۔

Post A Comment:
0 comments: