اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات اور حالات حاضرہ کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے ووٹوں کی تقسیم روکنے کیلئے اہم گذارش
اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ تاریخوں کا اعلان کئے جانے کے بعد ان سبھی پانچ ریاستوں میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تاہم سبھی کی نظریں اترپردیش اسمبلی انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی کامیابی کیلئے کوششں تیز کر دی ہیں۔ اس مرتبہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی اترپردیش میں اپنے امیدوار اتارنے جارہی ہے، جس کے بعد سیاسی کھیل مزید دلچسپ ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اویسی کے میدان میں اترنے سے ووٹوں کی تقسیم کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اسی درمیان مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر مولانا سجاد نعمانی نے اسد الدین اویسی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔
خط میں مولانا نے لکھا ہے کہ حالیہ واقعات اور ان کے ممکنہ دور رس نتائج کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرنے کے لئے آپ کو زحمت دے رہا ہوں۔ آپ بخوبی واقف ہیں کہ فسطائی طاقتوں کی اصل عوامی طاقت کا سر چشمہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق O.B.C سے ہے، جس کے ذیل میں بے شمار سماجی اکائیاں آتی ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب اس طبقے کے لوگ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں، ان طاقتوں کو شکست ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ گز شتہ کل 11 جنوری کو جو کچھ لکھنو میں ہوا، اور اطلاعات کے مطابق یہ صرف آغاز ہے، آگے اور بہت کچھ ہونے والا ہے، اس کے پیش نظر یہ اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ووٹوں کی تقسیم کم سے کم ہو۔ آپ کو شاید انداز نہیں ہے کہ ان سطور کے راقم کے دل میں آپ کے عزائم اور صلاحیتوں کی کتنی قدر ہے؟ اور یہ بات جو میں نے آپ سے عرض کی ہے یہ خودزمینی حالات اور حقائق کی وجہ سے لکھی ہے، ورنہ سچ یہ ہے کہ یہ رائے میرے جذبات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
خط میں مولانا نے آگے لکھا اگر کاش کہ تمام مظلوم و کمزور طبقات کو ساتھ لے کر اپنی قیادت میں سیاسی طاقت کی تشکیل کا کام آج سے چالیس پچاس سال پہلے شروع ہوا ہوتا۔آپ میری گزارش سے متفق ہوں تو آپ ہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ووٹوں کی تقسیم کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے، میری سمجھ کے مطابق آپ صرف ان سیٹوں پر بھر پور طاقت صرف کر یں جہاں کامیابی یقینی ہو، اور بقیہ سیٹوں پر آپ خود گٹھ بندھن کے لئے اپیل کر دیں، میرے خیال میں اس سے آپ کی مقبولیت اور آپ پر اعتماد بہت زیادہ بڑھ جاۓ گا، جس سے آئندہ ، یعنی انتخابات کے فورا بعد اپنے اصل نصب العین کے لئے فوری طور پر شروع کی جانے والی کوشش کی کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔
اخیر میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے لکھا کہ یقین رکھیں کہ یہ گذارشات میں نے صرف آپ اور ملک وملت کی خیر خواہی کے جذبے سے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں اگر ناگوار خاطر ہوئی ہوں تو معذرت خواہ ہوں۔

Post A Comment:
0 comments: