International,Lahore,PubG,Game,Crime,Online Game,News18 Urdu News, Dailyhunt Urdu News, Malegaon News

گیم میں دیئے گئے اہداف مکمل کرنے میں ناکامی پر بچے کا مزاج بگڑ گیا، ماں کی پستول سے اہل خانہ پر گولیاں چلا دی، پولیس نے حراست میں لیا

پولیس نے ایک ہفتے قبل کاہنہ میں ایک ہی گھر کے چار افراد کے قتل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واقعے میں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو ان کے 3 بچوں سمیت قتل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مسلم طلباء کو کلاس میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دینے والی ہیڈ مسٹریس معطلrayers-in-class.html

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکام نے مقتول لیڈی ہیلتھ ورکر کے 14 سالہ بیٹے زین علی کو حراست میں لے لیا جو کہ پولیس کے مطابق معروف آن لائن گیم پب جی کھیلتا تھا اور مبینہ طور پر اس گیم سے متاثر ہو کر اپنی والدہ اور تین بہن بھائیوں کو قتل کر ڈالا۔ 45 سالہ ناہید مبارک، ان کا 20 سالہ بیٹا تیمور سلطان اور بیٹیاں 15 سالہ ماہنور فاطمہ اور 10 سالہ جنت ایک ہفتہ قبل کاہنہ کے علاقے ایل ڈی اے چوک میں اپنے کثیرالمنزلہ گھر کے ایک کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ریچارج سے متعلق ٹرائی کا صارفین کے حق میں اہم فیصلہlans.html

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ زین علی نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، مشتبہ ملزم پب جی کھیلنے کا شوقین تھا اور اپنا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں آن لائن گیم کھیلنے میں لگاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن گیم میں دیے گئے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد نوعمر لڑکے کا مزاج غضبناک ہوگیا تھا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ واقعے کے دن لڑکا گھنٹوں ’پب جی‘ کھیلتے ہوئے کسی ہدف میں ناکامی کے بعد اپنا ہوش کھو بیٹھا، اور اپنی والدہ کی پستول اٹھا کر کمرے میں چلا گیا جہاں وہ اپنے دوسرے بچوں کے ساتھ سو رہی تھیں۔

زین علی نے مبینہ طور پر اپنی والدہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر اپنی دو بہنوں پر گولی چلا دی۔انہوں نے بتایا کہ گولیوں کی آوازیں سن کر جب زین کا بڑا بھائی کمرے میں داخل ہوا تو زین نے اس پر بھی گولی چلا دی جس سے وہ سب موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، اس کے بعد وہ بالائی منزل پر اپنے کمرے میں چلا گیا جہاں اس نے کچھ دیر آرام کیا اور پھر گھر سے نکل گیا۔ زین نے پستول کو قریبی نالے میں پھینک دیا اور اپنے کمرے میں واپس آیا تاکہ یہ بہانہ کر سکے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ سو رہا تھا۔پولیس افسر نے بتایا کہ تفتیش کاروں کو واقعہ پیش آنے کے بعد سے لڑکے کی مشکوک باڈی لینگویج کی وجہ سے اس پر شک تھا لیکن انہوں نے کچھ دنوں تک اس پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ اس دوران پولیس نے تمام ممکنہ پہلو ڈھونڈنے کے لیے انکوائری کی لیکن مزید کچھ نہیں ملا، جمعرات کو بالآخر پولیس نے زین علی کو اپنے خاندان کے قتل کے شبے میں حراست میں لے لیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جائے وقوع کے معائنے کے دوران خون کے نشانات نے تفتیش کاروں کو گھر کے اوپری حصے میں مشتبہ ملزم کے کمرے تک لے جانے میں مدد دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں ملزم کے کپڑوں پر خون کے دھبے بھی ملے۔ واضح رہے کہ لاہور میں اس آن لائن گیم سے جڑے جرم کا یہ چوتھا واقعہ ہے، 2020 میں جب پہلا کیس سامنے آیا تو اس وقت کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر ذوالفقار حمید نے لاکھوں نوجوانوں کی زندگی، وقت اور مستقبل کو بچانے کے لیے اس گیم پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ گزشتہ دو سالوں میں اس گیم کے شوقین تین نوجوان خودکشی کر چکے ہیں اور پولیس نے اپنی رپورٹس میں ان اموات کی وجہ ’پب جی‘ کو قرار دیا ہے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: