National,India,Karnatka,Government School,Principal,Offering Namaz-E-Juma,Education Department,News18 Urdu News,Dailyhunt Urdu News,Malegaon News

 

کرناٹک کے سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس اوما دیوی کے خلاف انکوائری، قصوروار پائے جانے کے بعد معطل، وزیر تعلیم بی ایس ناگیش نے کہا اسکول میں ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیے

کرناٹک کے محکمہ تعلیم نے مسلم طلباء کو کلاس کے اندر نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کے معاملے میں ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس اوما دیوی کو معطل کردیا ہے۔بلاک ایجوکیشن آفیسر گرجیشوری دیوی کے ذریعے کی گئی انکوائری میں اوما دیوی کو قصوروار پایا گیا جس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ریچارج سے متعلق ٹرائی کا صارفین کے حق میں اہم فیصلہlans.html

اس سے قبل کچھ مسلم طلباء کا کلاس میں نماز پڑھنے کا ویڈیو وائرل ہوا تھا جس کے بعد کچھ ہندو تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر کچھ مسلم طلباء کو کلاس میں جمعہ کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھایا گیا تھا۔معاملے کی جانچ کرنے والی گریجیشوری دیوی نے کہا کہ مسلم طلباء کو وقفے کے دوران نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن قاعدہ کتاب کے مطابق کلاس کے اندر نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔پہلے ہیڈ مسٹریس اوما دیوی یہ کہہ کر خود کا دفاع کرتی رہی کہ ان کی غیر موجودگی میں نماز ادا گئی ہے اور انہوں نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔وزیر تعلیم بی ایس ناگیش نے ہیڈ مسٹریس کے خلاف کارروائی کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اسکول میں اس طرح کے واقعات نہیں ہونے چاہیے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: