National,India,UP,UP Election 2022,Congress,Lucknow,JNU,Kanahiya Kumar,News18 Urdu News,Dailyhunt Urdu News,Malegaon News

ملزم پکڑا گیا، کانگریس لیڈران نے دعوی کیا کہ کنہیا پر سیاہی نہیں ایک قسم کا تیزاب پھینکا گیا ہے

اترپردیش میں انتخابات سے قبل لکھنئو کانگریس دفتر میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم کنہیا کمار پر سیاہی پھینکی گئی۔انڈیا ٹوڈے کی خبر کے مطابق کانگریس لیڈران نے دعوی کیا ہے کہ وہ سیاہی نہیں تھی جو کنہیا کمار پر پھینکی گئی بلکہ ایک قسم کا تیزاب تھا۔ واضح رہے کہ کنہیا کمار اترپردیش انتخابات سے قبل تشہیر میں مصروف تھے اس وقت یہ واقعہ پیش آیا۔
کانگریس لیڈران نے کہا کہ ملزم نے کنہیا کمار پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہا اسکے باوجود کنہیا کے اطراف میں کھڑے تین چار نوجوانوں کے اوپر کچھ قطرے آئے۔پارٹی کارکنان نے ملزم کو پکڑ لیا ہے لیکن اب تک ملزم کی شناخت اور دیگر تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
کنہیا کمار لکھنئو میں کانگریس امیدواروں کیلئے گھر گھر جاکر ووٹ مانگنے کی مہم کیلئے لکھنئو پہنچے تھے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی قیادت میں ریاستی اسمبلی انتخاب کافی زوردار ہوگا۔ہاتھرس، انّاؤ اور لکھیم پور کھیری میں پیش آنے والے واقعات کے بعد کانگریس انصاف کیلئے سڑکوں پر ہے۔کنہیا کمار نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک کو بنایا بھی نہیں وہ ملک کو بیچ رہے ہیں۔ کانگریس نے ملک کو بنایا ہے اسلئے ایسے لوگوں سے ملک کو بچا رہی ہے۔ اس سے قبل 2018 میں گوالیار میں ایک شخص نے گجرات کے رکن اسمبلی جگنیش میوانی اور کنہیا کمار پر سیاہی پھینکی تھی۔ اس وقت میوانی اور کنہیا سنودھان بچاؤ کے تحت چیمبر آف کامرس بھون میں ایک سیمینار سے خطاب کرنے گئے تھے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا تھا کہ جب وہ سیمینار سے خطاب کرنے والے تھے عین اسی موقع پر ہندو سینا کے مکیش پال نے دونوں پر سیاہی پھینکی تھی۔
Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: