National,India,Crime,Social Media,Twitter,Instagram,Journalist Rana Ayyub,Life Threats,Mumbai Police,Cyber Police,Rape Threats,Fake News,News18 Urdu

خاتون صحافی سے متعلق جعلی خبر پوسٹ کرنے، گالی گلوچ کرنے، عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکی، چار ٹوئیٹر اور دو انسٹا صارفین کے خلاف معاملہ درج

ممبئی پولیس نے خاتون صحافی رعنا ایوب کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے الزام میں نامعلوم ملزمین کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ رعنا ایوب کی شکایت پر مغربی علاقے کے سائبر ہولیس اسٹیشن میں اتوار کے روز تعزیرات ہند کی دفعہ 354-A سمیت مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
رعنا ایوب نے بھی ٹوئیٹ کرکے کہا کہ ممبئی پولیس نے میرے خلاف فرضی خبریں پھیلانے، ٹوئیٹ سے چھیڑ چھاڑ کرنے، جان سے مارنے اور عصمت دری کی دھمکی دینے والوں کے خلاف بنیادی معاملہ درج کیا ہے۔ ایک ڈپیٹی کمشنر آف پولیس رینک کے افسر نے کہا کہ جمعہ کو اس معاملے میں چار ٹویٹر اور دو انسٹاگرام اکاؤنٹ استعمال کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ملزم نے رعنا ایوب سے متعلق جعلی خبر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے ان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یوزرس نے رعنا ایوب کو عصمت ریزی اور جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ 25 جنوری کو رعنا نے ٹوئیٹ کیا" 26.4 ہزار ٹوئیٹس، جن میں زیادہ تر گالی گلوچ، ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکی ہے۔ مجھے دہشت گردوں کی ہمدرد بتاتے ہیں۔اکثر ٹوئیٹ ہندوستانی دائیں بازو اور سعودی قوم پرستوں کے ہیں جو میرے ذریعے یمن کی یکجہتی سے متعلق کئے گئے ایک ٹوئیٹ پوسٹ کرنے کے بعد کئے گئے ہیں۔
Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: