Maharashtra,Mumbai,Antilia Bomb Scare Case,Mansukh Murder Case,Maharashtra Ex-Home Minister,Anil Deshmukh,Sachin Vaze,Uddhav Thackeray,Aaditya Thacker

سچن وازے کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم ادھو ٹھاکرے نے دیا تھا، آدتیہ ٹھاکرے نے بھی یہی ہدایت دی تھی, سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے وازے کی دوبارہ تقرری کیلئے دو کروڑ کا مطالبہ کیا تھا

ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے ٹھاکرے فیمیلی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ای ڈی کو دیئے گئے بیان میں پرمبیر نے کہا کہ 16 سال سے معطل رہے ممبئی پولیس کے اے پی آئی سچن وازے کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم براہ راست مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے دیئے تھے۔ اس کے بعد ریاست کے وزیر ماحولیات اور وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے بھی وازے کو بحال کرنے کیلئے کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔سنجے راؤت کے قریبی پروین راؤت کو ای ڈی نے گرفتار کیا

سچن وازے مکیش امبانی کی رہائش انٹیلیا کے باہر گاڑی میں دھماکہ خیز مادہ رکھنے اور اس گاڑی کے مالک منسکھ ہیرین کے قتل کا کلیدی ملزم ہے۔ فی الحال وہ ممبئی کی تلوجہ جیل میں بند ہے۔ مہاراشٹر پولیس نے وازے کو ملازمت سے برخاست کردیا ہے۔ ہرمبیر پر الزام ہے کہ انہوں نے جونیئر ہونے کے باوجود سچن وازے کو کئی اہم کیس کی ذمہ داری دی تھی۔ وازے کا نام سامنے کے بعد برمبیر سنگھ نے مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر بھی پولیس کے ذریعے 100 کروڑ روپے وصولی کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔ پرمبیر سنگھ نے ای ڈی کو بتایا کہ 2020 میں دوبارہ سچن وازے کا تقرر کیا گیا تھا۔ سبھی پولیس افسران کو معطل کرنے کی کارروائی ممبئی پولیس کمشنر کی قیادت میں کی جاتی ہے۔ اس میں کچھ اسسٹنٹ پولیس افسر اور کچھ سینئر پولیس افسران بھی شامل ہوتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔رعنا ایوب کو جان سے مارنے کی دھمکی، چار افراد کے خلاف معاملہ درجgram-Users-Police-Registered-Case-Against-4.html

پرمبیر نے مزید کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت کے وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے سچن وازے کی تقرری کیلئے براہ راست دباؤ بنایا تھا۔ مجھے آدتیہ ٹھاکرے اور وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی جانب سے بھی ایسا ہی کرنے کی ہدایت ملی تھی۔ وزیراعلی اور وزیر داخلہ کی صلاح پر ہی میں نے سچن وازے کو کرائم انٹلیجنس یونٹ(CIU) میں ٹرانسفر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں کے ذریعے براہ راست وازے کو بلا کر کسی بھی بڑے معاملے کی تفصیلات لی جاتی تھیں اور آگے کیا کرنا ہے اس کی ہدایت دی جاتی تھی۔ پرمبیر نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ وازے کو پولیس سروس میں واپس لانے کیلئے دیشمکھ نے اس سے دو کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ پرمبیر سنگھ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ممبئی پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے جو کمیٹی بنتی ہے اس کا ہیڈ پولیس کمشنر ہوتا ہے۔ اس کمیٹی میں پی ایس آئی سے لے کر ڈی سی پی رینک کے افسران کے تبادلے پر فیصلہ لیا جاتا ہے۔ ممبئی پولیس میں تبادلے کی فہرست بھی وزارت داخلہ کے دفتر میں بنائی جاتی تھی اور مجھے یہ فہرست کئی مرتبہ وزیر داخلہ نے خود سونپی تھی۔ کئی مرتبہ ان کے پی ایس سنجیو پلانڈے یا ان کے او ایس ڈی روی وہٹکر نے دی تھی۔ پرمبیر نے بتایا کہ ان کو کئی مرتبہ دیشمکھ نے سہیادری گیسٹ بلایا ہے جہاں پر وہ خود کی فہرست دیتے تھے اور فائنل کرنے کیلئے کہتے تھے۔

مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے ای ڈی کو بتایا کہ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ منسکھ ہیرین اور انٹیلیا معاملے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنگھ نے جھوٹی معلومات دی اور حقائق کو چھپایا۔ دیشمکھ نے یہ بھی کہا کہ وازے کو تمام ہدایت سنگھ ہی دیا کرتے تھے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: