Articles by "WASHINGTON"
Showing posts with label WASHINGTON. Show all posts

رعنا ایوب نے ٹوئیٹ کے ذریعے کہا کہ نیشنل پریس کلب کی ممبر بننا میرے لئے اعزاز کی بات ہے

ہندوستان کی مشہور صحافی اور گجرات فائلس کی مصنفہ رعنا ایوب کو نیشنل پریس کلب کی اعزازی رکنیت سے نوازا گیا. واضح رہے  کہ رعنا ایوب ہندوستان کی پہلی صحافی ہیں جنہیں نیشنل پریس کلب کی رکنیت ملی ہے.

رعنا ایوب نے ٹوئیٹ کے ذریعے کہا کہ نیشنل پریس کلب کی ممبر بننا میرے لئے اعزازکی بات ہے.

1908 

میں قائم کیا گیا نیشنل پریس کلب ایک پیشہ وارانہ اور سماجی ادارہ ہے جو صحافیوں اور صحافت سے وابستہ پیشہ وروں کیلئے کام کرتا ہے. اس ادارے کے ذریعے صحافیوں کی تربیت بھی کی جاتی ہے. واشنگٹن میں قائم یہ ادارہ ایک صدی سے زائد عرصہ سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے. یہ صحافیوں کیلئے دنیا کی معروف پیشہ ور تنظیم ہے.

اس تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق نیشنل پریس کلب جو نلزم انسٹی ٹیوٹ ملک بھر کے صحافیوں کی تربیت اور مدد کے ذریعے عوامی مفاد میں صحافت کو تقویت بخشتاہے۔  انسٹی ٹیوٹ، نیشنل پریس کلب کا ایک غیر منفعتی ادارہ ہے، جو آن لائن تعلیمی پروگرام، نیوز لیٹر اور بہت سے مواد فراہم کرتا ہے۔

 


نتائج پر ٹرمپ کی ناراضگی برقرار، کہا کہ اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتا لیکن بائیڈن کو اقتدار سونپ دوں گا

امریکہ میں تشدد کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔واضح رہے کہ 20 جنوری کو امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن ایک تقریب میں صدر کے عہدے کا حلف لیں گے۔بائیڈن کے ہاتھوں شکست کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کا کا بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں لیکن اب ٹرمپ نے ٹوئیٹ کرکے اس معاملے میں اپنا موقف واضح کردیا ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ وہ نومنتخب صدر بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ امریکہ میں جاری تشدد کے درمیان جمعرات کے روز کانگریس نے جو بائیڈن کی فتح پر مہر لگا دی ہے۔جو بائیڈن کو کل 306 الیکٹورل کالج ووٹ ملے ہیں جو اکثریت سے زیادہ ہیں۔صدر بننے کیلئے 270 ووٹ درکار ہوتی ہیں۔کانگریس کی منظوری کے بعد جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر ہوں گے۔جو بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ 20 جنوری کو قانونی طور پر جو بائیڈن کو صدارت کے عہدہ کا حلف دلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اس انتخابی نتیجے کی حمایت نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود باقائدہ طور پر جو بائیڈن کو اقتدار سونپیں گے۔ٹرمپ نے نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے خا اعلان کیا۔اس سے قبل جمعرات کو امریکہ میں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب ایلیکٹورل کالج کیپیٹل ہل میں ایک کارروائی کے دوران بائیڈن کی فتح پر مہر لگانے کی تیاری کی جارہی تھی۔ہزاروں ٹرمپ حامیوں نے واشنگٹن میں ریلی نکالی اور لیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا۔مظاہرین نے ٹرمپ کو اقتدار پر قائم رکھنے اور دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرائے جانے کے مطالبات کئے گئے۔سیکڑوں ٹرمپ حامیوں نے سینیٹ میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور کئی دفتروں پر قبضہ کرلیا۔حالانکہ نیشنل گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو باہر نکالا۔اس تشدد کے دوران 4 لوگقں کی موت ہوگئی۔