Articles by "PRESIDENT ELECT"
Showing posts with label PRESIDENT ELECT. Show all posts

سات رکنی کمیٹی کی سروے رپورٹ کی بنیاد پر پرہجوم جلسہ عام میں پارٹی صدر کے نام کا اعلان، نو منتخب صدر سے پارٹی لیڈران و کارکنان کی امیدیں وابستہ 

مالیگاؤں: بنکر لانس انصار جماعت خانہ میں منعقد جنتا دل سکیولر کے اجلاس میں آج پارٹی کے نئے صدر کا اعلان کرتے ہوئے شان ہند نہال احمد کو پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔جنتا دل سیکولر کے نئے صدر کے انتخابات کی سرگرمیاں کئی روز سے جاری تھی۔فیس بک پر پارٹی کی صدارت سے متعلق ایک سروے(پول) کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں عوام سے رائے طلب کی گئی تھی کہ جنتا دل سیکولر کا نیا صدر کسے بنایا جائے۔
اس تعلق سے عوام نے اپنی رائے پیش کی اور اکثریت نے جنتا دل کی کارپوریٹر شان ہند کو جنتا دل کی صدر بنانے کیلئے ووٹ کیا تھا۔ اس کے علاوہ پارٹی کی جانب سے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے شہر بھر میں سروے کیا گیا۔کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر شان ہند کو صدر منتخب کیا گیا ہے۔اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے منظور حسن ایوبی نے کہا درحقیقت ان کا جنتا دل پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ آج اس پروگرام میں شرکت کرکے ساجدہ نہال احمد، مستقیم ڈگنٹی اور شان ہند کو مبارکباد پیش کریں کیونکہ شہر میں اس وقت جنتا دل کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی جارہی ہے۔رضوان بیٹری والا نے کہا کہ آج شہر میں بدعنوانی کا بازار گرم ہے، میں ہر مرحلے پر بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں چاہے وہ اس اسٹیج پر ہی کیوں نا موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ نہال احمد کے دور میں شہریان کا دبدبہ قائم تھا لیکن آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔جنتا دل سکریٹری مستقیم ڈگنٹی نے کہا کہ بلند اقبال کے انتقال کے بعد جب ہم نے کام کرنا شروع کیا تو اس وقت ہم نے عزم کیا تھا کہ ہم صرف شہر کی فلاح وبہبود کو ترجیح دیں۔ آج جنتا دل کو مضبوط کرنے کیلئے پارٹی سے وابستہ ہونے والے ورکروں کے انہوں نے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ناسک اور اورنگ آباد ترقی کی طرف گامزن ہیں لیکن ہمارا شہر پچھڑتا جارہا ہے۔ آج ہم شہر کے آؤٹر حلقہ سے موازنہ کریں تو ہمیں شہر کے حالات کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ دابھاڑی سے آؤٹر حلقہ کو پانی فراہمی کے خلاف ہم ہمیشہ سینہ سپر رہے۔شہر کو ترقی سے محروم رکھنے کیلئے فرقہ پرستی کا سہارا لیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں ایک جنتا ڈیولپمنٹ فرنٹ تشکیل دیا جائے، مستقبل میں اس فرنٹ کی کارکردگی اور مستقبل کا لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔اگر ہم کارپوریشن میں برسر اقتدار آئے تو شہیدوں کی یاد گار پر شہیدوں کے نام لکھے جانے پر مثبت اقدامات کریں گے۔اس تعلق سے تمام کاغذی کارروائیاں جاری ہیں۔مستقیم ڈگنٹی نے کہا کہ شہر کو تلواڑہ ڈیم کے پانی سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے اگر شہریان کو تلواڑہ ڈیم سے دستبردار نہیں ہونا ہے تو جنتا دل کا ساتھ دینا ہوگا جو اس تعلق سے لڑ رہی ہے۔یاد رکھیں اگر تلواڑہ ڈیم کے پانی سے محروم ہوئے تو ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

 


نتائج پر ٹرمپ کی ناراضگی برقرار، کہا کہ اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتا لیکن بائیڈن کو اقتدار سونپ دوں گا

امریکہ میں تشدد کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔واضح رہے کہ 20 جنوری کو امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن ایک تقریب میں صدر کے عہدے کا حلف لیں گے۔بائیڈن کے ہاتھوں شکست کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کا کا بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں لیکن اب ٹرمپ نے ٹوئیٹ کرکے اس معاملے میں اپنا موقف واضح کردیا ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ وہ نومنتخب صدر بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ امریکہ میں جاری تشدد کے درمیان جمعرات کے روز کانگریس نے جو بائیڈن کی فتح پر مہر لگا دی ہے۔جو بائیڈن کو کل 306 الیکٹورل کالج ووٹ ملے ہیں جو اکثریت سے زیادہ ہیں۔صدر بننے کیلئے 270 ووٹ درکار ہوتی ہیں۔کانگریس کی منظوری کے بعد جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر ہوں گے۔جو بائیڈن کو فاتح قرار دیئے جانے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ 20 جنوری کو قانونی طور پر جو بائیڈن کو صدارت کے عہدہ کا حلف دلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اس انتخابی نتیجے کی حمایت نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود باقائدہ طور پر جو بائیڈن کو اقتدار سونپیں گے۔ٹرمپ نے نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے خا اعلان کیا۔اس سے قبل جمعرات کو امریکہ میں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب ایلیکٹورل کالج کیپیٹل ہل میں ایک کارروائی کے دوران بائیڈن کی فتح پر مہر لگانے کی تیاری کی جارہی تھی۔ہزاروں ٹرمپ حامیوں نے واشنگٹن میں ریلی نکالی اور لیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا۔مظاہرین نے ٹرمپ کو اقتدار پر قائم رکھنے اور دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرائے جانے کے مطالبات کئے گئے۔سیکڑوں ٹرمپ حامیوں نے سینیٹ میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی اور کئی دفتروں پر قبضہ کرلیا۔حالانکہ نیشنل گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو باہر نکالا۔اس تشدد کے دوران 4 لوگقں کی موت ہوگئی۔