ڈاکٹر کفیل نے اپنی کتاب دی گورکھپور اسپتال ٹریجڈی اے ڈاکٹرس میموائر آف اے ڈیڈلی میڈیکل کرائسس کا اجراء کے موقع پر کہا کہ یوگی دوبارہ اقتدار میں واپس نہیں آئیں گے
گورکھپور بی آر ڈی کالج اور نہرو اسپتال میں اگست 2017 میں پیش آئے سانحہ (جس میں 63بچوں کی موت ہوگئی تھی) میں پھنسائے گئے ڈاکٹر کفیل خان نے کہاکہ گورکھپور اسمبلی سیٹ سے مجوزہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرنے پر انہیں جیت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔میئر طاہرہ شیخ اور سابق میئر شیخ رشید سمیت28 کارپوریٹر این سی پی میں شامل-Rasheed.html
مذکورہ سیٹ موجودہ چیف منسٹر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اجئے سنگھ بشت عرف یوگی ادتیہ ناتھ کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ڈاکٹر کفیل خان نے کہاکہ مذکورہ اسپتال پیپلی لائیو (فلم) جیسا بن گیاتھا۔ آپ گاڑیاں دیکھ سکتے ہیں اور ہر کوئی بدانتظامی کو دیکھ سکتا ہے۔ جب ہر کوئی 63 بچوں کی موت کیوں ہوئی پوچھنے لگا تو سدھار ناتھ سنگھ(بی جے پی منسٹر) نے ایک غیر حساس بیان دیاکہ 2016 میں بھی بچوں کی موت ہوئی ہے۔ انہوں نے دعوی کیاکہ یہ سارے واقعات اہمیت کے ساتھ مبینہ طور پر یوگی کو ہٹانے کی سازش کے ساتھ جڑے ہیں۔ کفیل خان نے کتاب کے اجراء کے موقع پر یاد کرتے ہوئے کہاکہ اور انہیں ایک بلی کے بکرے کی ضرورت تھی۔جب مجھے (یوگی نے) طلب کیا تو میں شاباشی ملنے کی امید میں خوش تھا۔ انہوں نے ’تو‘ تو ڈاکٹر کفیل ہے‘۔ اس وقت مجھے حیرت ہوئی کیونکہ انہوں نے مجھے ’تو‘ کہہ کر مخاطب کیاتھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ جب یوپی حکومت کی جانب سے انہیں سزا دی گئی تو ان پر آکسیجن سلنڈرس کی چوری کا الزام لگایاگیاتھا۔
ڈاکٹر کفیل خان نے اپنی کتاب جس کا عنوان ’دی گورکھپور اسپتال ٹریجڈی‘ اے ڈاکٹرس میموائر آف اے ڈیڈلی میڈیکل کرائسیس‘ جس میں 2017 کے بی آر ڈی کالج میں ہوئے واقعہ کے متعلق بات کی گئی ہے کے اجراء کے موقع پرسارے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میری اس کتاب میں 150فٹ طویل آکسیجن ٹینک کی تصویریں موجود ہیں۔ جس میں پانچ لاکھ لیٹر آکسیجن کی گنجائش ہے۔ وہ شخص جو ’آپ کی عدالت‘ شو چلاتا ہے اس نے کہاکہ میں نے مذکورہ ٹینک چوری کی ہے۔میں نے اپنی پیٹھ پر150فٹ اونچی ٹینک اٹھالی ہے اورحکومت نے بھی اس پر یقین کرلیا اور یہی الزامات مجھ پر عائد کئے گئے تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ اس کے بعد کی قید نے ان کی فیملی کو ذہنی او رمعاشی دونوں طریقے سے توڑ دیا۔ ڈاکٹر کفیل نے کہاکہ اس نے میری ماں اوربیوی کو سڑکوں پر لادیا۔ میری والدہ اور میری بیوی کے زیوارت عدالتی معاملات کے لئے فروخت کرنے پڑے۔ ہائی کورٹ سے کلین چٹ ملنے کے بعد بھی مجھے برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ برطرفی کی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس نے بچوں کی بچانے کی کوشش کی اور وہ کسی بدعنوانی کے معاملے میں ملوث نہیں ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہاکہ ”مگر پھر بھی انہوں نے کہاکہ انہوں نے مجھے اس لئے برطرف کیاہے کیونکہ میں نے 2014 میں خانگی پریکٹس کی تھی یہ اس وقت کی بات ہے جب میں حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اسپتال میں ملازم بھی نہیں تھا۔
اس وقت اگر میں نے پریکٹس کی ہے تو اس میں کیا دقعت ہے؟ہر ادارے کو تفرقہ انگیز نظریہ نے اپنی گرفت میں لے لیاہے۔انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ میں سب کو یہ بات بتادینا چاہتاہوں کہ یوگی دوبارہ اقتدار میں واپس نہیں آئیں گے۔

Post A Comment:
0 comments: