کیپٹن امریندر سنگھ نے دعوی کیا کہ انہوں نے یہ پیغام سونیا اور  پرینکا کو بتایا تھا، پرینکا نے کہا تھا بے وقوف آدمی ہے جو ایسے پیغام بھجواتا ہے

پنجاب کے سابق وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے دہلی میں بڑا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو کو وزیر بنانے کیلئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سفارش کی تھی۔ ان کے اور سدھو کے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے عمران خان نے انہیں یہ پیغام بھیجا تھا۔ انہیں کہا گیا تھا کہ سدھو کو اپنی حکومت میں لے لیں اگر کام نہیں کرے گا تو نکال دینا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔امریکہ میں گھر سے انسانی لاش کے ساتھ سو سے زائد سانپ بھی برآمد

وہ بھی یہ جان کر حیران رہ گئے تھے کہ عمران خان سدھو کی سفارش کررہے ہیں۔ مجھے کہا گیا کہ سدھو کی ان کی ساتھ دوستی ہے اس لئے وہ سدھو کو وزیر بنوانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ پیر کے روز سدھو سے اس تعلق سے پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ میں نے سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو یہ پیغام بھیجا۔ اس پر سونیا کا کوئی جواب نہیں آیا لیکن پرینکا گاندھی نے کہا کہ بے وقوف آدمی ہے جو ایسے میسیج کروارہا ہے۔ کیپٹن نے کہا کہ سدھو بطور وزیر ناکارہ ہیں۔ سدھو کو مقامی حکومتی وزیر بنایا تھا 70 دن میں سدھو نے کوئی فائل نہیں نکالی۔ میں نے انہیں دو تین مرتبہ بلا کر کہا کہ ایسا کام کرنا ہے تو کہیں اور جاؤ۔

نوجوت سنگھ سدھو نے چندی گڑھ میں عام آدمی پارٹی کے سروے سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران امریندر سنگھ کے اس دعوے سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ آج کا مدعا نہیں ہے۔ اس تعلق سے دوبارہ پریس کانفرنس کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔کیپٹن کے دعوے کے بعد بی جے پی نے بھی سدھو کو نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری ترون چُگ نے کہا کہ سدھو کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ان کی حکومت چلانے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے ساتھ روابط بے نقاب ہو چکے ہیں۔ چگ نے سدھو کے وزیر اور پنجاب کانگریس سربراہ رہتے ہوئے کارکردگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی ایجنسی کو پنجاب میں بدامنی پھیلانے کے معاملے میں سدھو کے کردار کی جانچ کرنی چاہیے۔ سونیا اور راہل کو بتانا چاہیے کہ وہ سدھو کو پروموٹ کرتے ہوئے تحفظ کیوں فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قومی سلامتی کیلئے سنگین معاملہ ہے۔ سرحد کی حفاظت کے تحت مرکزی ایجنسی کو ضرور اس کی جانچ کرنی چاہیے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: