Informative,Covid-19,Breastfeeding,Breastmilk,Mother's Milk,Antibodies,Informative News,News18 Urdu,Dailyhunt News,Malegaon News

ایڈاہو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ماں کے دودھ سے کرونا وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز نومولود بچوں میں منتقل ہوکر انہیں بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں

حمل کے دوران کووڈ 19 کا سامنا کرنے والی ماؤں کے دودھ سے نومولود بچوں میں بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز منتقل ہوتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے  والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ادھو ٹھاکرے کی بیوی کو مراٹھی رابڑی دیوی کہنے والے بی جے پی لیڈر کیخلاف معاملہ درجs-Wife-to-Rabri-Devi.html

ایڈاہو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ماں کے دودھ سے کورونا وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز نومولود بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔نئی تحقیق سے سابقہ نتائج کو تقویت ملتی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثر خواتین سے بیماری کو تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔اس تحقیق میں 60 سے زیادہ خواتین کو شامل کیا گیا تھا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص کو کم از کم 2 ماہ ہوچکے تھے اور ان سے نمونے حاصل کیے گئے۔

محققین نے بتایا کہ یہ بہت اہم ہے کہ بیماری کے 2 ماہ بعد بھی بیشتر خواتین میں اینٹی باڈیز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، محققین اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ اس بیماری کا شکار ہوئی ہیں تو بچے کو دودھ پلانا مت چھوڑیں۔تحقیق کے دوران نمونوں کی جانچ پڑتال میں ان اینٹی باڈیز کو دیکھا گیا تھا جو کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 2 ماہ بعد بھی دوتہائی خواتین کے دودھ میں اینٹی باڈیز بن رہی تھیں اور یہ عمل کووڈ کی تشخیص کے ایک ہفتے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔

محققین نے بتایا کہ ماں کے دودھ میں موجود اینٹی باڈیز سے بچوں کو بیماری کے خلاف دیرپا مدافعت ملنے کا امکان ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل فرنٹیئرز ان امیونولوجی میں شائع ہوئے۔ اس سے قبل ستمبر 2021 میں امریکا کے ماؤنٹ سینائی ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 کا شکار ہونے والی خواتین 10 ماہ تک اپنے دودھ کے ذریعے وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بچوں تک منتقل کرتی رہتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ماں کی جانب سے بچے کو دودھ پلانا انہیں بیماری سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ بیماری سے بننے والی اینٹی باڈیز ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہوکر انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جاننا ضروری تھا کہ ماں کے دودھ میں اینٹی باڈیز ہوتی ہیں یا نہیں، بیماری کے بعد کتنے عرصے تک تحفظ ملتا ہے۔ ماں کے دودھ میں موجود اینٹی باڈیز خون اور ویکسینیشن سے متحرک ہونے والی آئی جی جی اینٹی باڈیز سے کسی حد تک مختلف ہوتی ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز بچوں کے نظام تنفس اور آنتوں میں رہ کر وائرس اور بیکٹریا کو جسم میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: