Articles by "Quidwai Road"
Showing posts with label Quidwai Road. Show all posts
رکن اسمبلی کا انتخابی منشور (مینی فیسٹو) ٹھیلہ گاڑی پر رکھ کر قدوائی روڈ پر گھمایا جائے گا

مالیگاؤں : 23 اکتوبر (پریس ریلیز) راشٹروادی کانگریس پارٹی کے رابطہ کار شکیل جانی بیگ نے آصف شیخ کے توسط سے موجودہ رکن اسمبلی پر تنقید کی کہ24 اکتوبر 2019 کو مالیگاؤں سینٹرل اسمبلی الیکشن میں جس طرح جھوٹ اور دروغ گوئی کا سہارا لیکر شہر کی عوام کو مذہب کے نام پر دھوکہ دیا گیا اور کامیابی حاصل کرلی گئی۔ اس وقت 2019 میں مفتی اسماعیل نے دوران الیکشن ایک اور جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ 
ایم ایل اے موصوف نے اردو میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس لیکر الیکشنی منشور کا اجراء کیا اور آٹھ صفحات پر مشتمل مینی فیسٹو چھاپ کر شہر بھر میں تقسیم کروایا جس میں مفتی اسماعیل نے شہر کی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں چن کر آؤں گا تو شہر کا نقشہ بدل دونگا ۔موصوف نے وعدہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "بدلیں گے ہم شہر، بدلاؤ تحفظ کیلئے، بدلاؤ ترقی کیلئے عنوان دیکر 19 اہم عنوانات پر 91 کاموں کا وعدہ کیا لیکن ایک بھی کام انہوں نے نہیں کیا اور شہر کی عوام کو دھوکہ دیکر ابھی تک بے شرمی سے شہر میں گھوم رہے ہیں ۔اور اب مفتی اسماعیل کے ایم ایل اے شپ کے 24 اکتوبر کو دو سال مکمل ہورہے لیکن شہر جیسا کہ ویسا ہی ہے ۔نہ کوئی تعمیری کام ہے نہ روزگار، نا اسکول کالج، نہ اسٹڈی سینٹر، نہ خواتین کیلئے سلائی کلاس، نہ بنکروں کیلئے کوئی سہولیات نہ غریب بچوں کیلئے فلاحی اسکیم اور نہ اناج، نہ کام صرف ایم ایل اے موصوف شہر کی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔موصوف نے کہا کہ 24 اکتوبر اتوار کو شام پانچ 5 بجے اردو میڈیا سینٹر کے پاس سے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے تمام عہدیداران کا قافلہ مفتی اسماعیل کے الیکشنی مینی فیسٹو کو ایک گاڑی پر رکھ کر انوکھے انداز میں نکال کر  قدوائی روڈ پر واقع اسکول نمبر کے پاس محمدیہ چوک پر ختم کیا جائے گا ۔اس موقع پر راشٹروادی سیوا دل، یوتھ ونگ، اقلیتی سیل ،کامگار سیل ،ڈرائیور سیل ،بیوپاری سیل ،وی جے این ٹی سیل ،او بی سی سیل، مہیلا سیل سمیت تمام ونگ و سیل کے دیگر مقررین مفتی اسماعیل کی ناکارہ کارکردگی کے ناکام دو سال پر انوکھا احتجاج کریں گے اور اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔راشٹروادی کانگریس پارٹی کے تمام ونگ و سیل کے عہدیداران سے اس انوکھے پروگرام میں شرکت کی گزارش کی گئی ہے ۔
رہائشی علاقے میں کووڈ سینٹر بنانے کی خبر سے عوام میں خوف، مقامی لوگوں نے سخت مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کا انتباہ دیا
مالیگاؤں قدوائی روڈ پر قرنطینہ کے نام سے مشہور عمارت کو ایک این جی او  کے ذریعے کوویڈ سینٹر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش اور غصہ پایا جارہا ہے۔ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں گنجان آبادی، تنگ گلیاں اور غریب مزدور مسلم آبادی والے علاقے آباد ہیں۔جس میں لال میدان (بستی) بھی شامل ہے۔اس بستی سے متصل ایک عمارت ہے جسے لوگ قرنطینہ کے نام سے جانتے ہے۔اس عمارت کی بنیاد تقریباً 40 سال قبل ڈاکٹر ویر چند نیمی داس نے رکھی تھی۔موصولہ اطلاع کے مطابق اس قرنطینہ میں اطراف کی بستیوں کے غریب لوگوں کا مفت میں علاج ہوتا تھا۔لیکن وقت کے ساتھ یہ سلسلہ منقطع ہوا اور اس عمارت میں ایک اسکول شروع کی گی۔اس عمارت کے ساتھ کئی دہائیوں سے تعصب ہو رہا ہے انتظامیہ کی توجہ دلانے کے باوجود اقدامات نہیں کئے گئے جس کے سبب قرنطینہ کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل شہر کی ایک این جی او کی جانب سے قرنطینہ عمارت کو کوویڈ سینٹر بنائے جانے کی خبر موصول ہوئی جس کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش اور غصہ کا ماحول پیدا ہوگیا۔ قرنطینہ عمارت کے اطراف میں رہنے والی خواتین نے نمائندے کو بتایا کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں پہلے ہی مختلف مسائل سے جوجھ رہے ہیں،کچھ دنوں پہلے انہوں نے اپنے بیٹے کا آپریشن کروایا تھا جس میں 1 لاکھ سے زائد خرچ آیا تھا جسکا قرض وہ اب تک ادا کررہے ہیں۔ان خواتین کا یہی مطالبہ ہیکہ یہاں کوویڈ سینٹر نہیں بنایا جائے کیونکہ یہ بیماری تیزی سے پھیلنے والی ہے اس بیماری سے آج ساری دنیا پریشان ہے اگر اس عمارت میں کوویڈ کے مریضوں کو رکھا گیا تو اس سے قرنطینہ کے اطراف رہائش پذیر افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں اور لوگوں میں کرونا کا خوف اور دہشت پیدا ہوسکتی ہیں۔اس بستی کے ایک بزرگ نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے اور قرنطینہ میں کووڈ سینٹر بنایا گیا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔