سوشل میڈیا پر بی جے پی لیڈران کے ساتھ متعدد تصاویر، بی جے پی لیڈران کا قریبی ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کا فعال رکن ہونے کا انکشاف
ادے پور قتل معاملہ کے اہم ملزم محمد ریاض عطاری کا سیاسی تعلق سامنے آگیا ہے۔ ایک تصویر میں وہ بی جے پی لیڈر گلاب چند کٹاریہ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ یہ تصویر 2018 کی ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی اقلیتی مورچہ سے وابستہ ایک کارکن کا ایک پرانا پوسٹ بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں اس نے ریاض کو بی جے پی کارکن بتایا ہے۔ دوسری جانب اس پر سیاست بھی شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیرا نے سوال اٹھایا ہے کہ کنہیا لال قتل کا کلیدی ملزم بی جے پی کارکن ہے، کیا یہی وجہ ہے کہ مرکز نے جلد بازی میں تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی؟
بی جے پی اقلیتی مورچہ سے منسلک ارشاد چین والا اور کارکن محمد طاہر کے 2019 میں کئے گئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی ریاض دکھائی دے رہا ہے. ایک تصویر میں ارشاد چین والا ریاض کو پھولوں کا ہار پہنا رہا ہے. اس تعلق سے ارشاد چین والا نے کہا کہ ریاض عمرہ کرکے لوٹا تھا اس وقت پھولوں کا ہار پہنا کر اس کا استقبال کیا گیا تھا. چین والا نے کہا کہ ریاض سے اسے محمد طاہر نے ہی ملوایا تھا. اس کا ریاض سے کوئی تعلق نہیں ہے.
دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق طاہر ایک کیمرہ مین ہے اور بی جے پی کا حامی ہے. اس کی پروفائل فوٹو میں بی جے پی کی پگڑی نظر آرہی ہے. اسی طاہر نے اپنی ایک پوسٹ میں ریاض کو بی جے پی کارکن بتایا تھا. طاہر نے پوسٹ میں لکھا ہر دل عزیز ہمارے بھائی ریاض عطاری بی جے پی کارکن کا عمرہ کی زیارت سے ادے پور آنے پر استقبال کیا گیا. اللہ ریاض عطاری بھائی جان کی تمام دعاؤں کو قبول فرمائے.آمین...
یہ پوسٹ طاہر کے فیس بک اکاؤنٹ سے 25 نومبر 2019 کو کی گئی تھی. اس میں طاہر، چین والا اور ایک دیگر بی جے پی رکن ریاض کو ہار پہناتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں. وہیں طاہر کی کئی پوسٹ میں ریاض عطاری نام کے فیس بک اکاؤنٹ کو مینشن کیا گیا ہے لیکن اب وہ اکاؤنٹ دکھائی نہیں دے رہا ہے. ممکن ہے کہ اس واردات کے بعد اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کردیا گیا ہو. اس کے علاوہ طاہر کی 27 اکتوبر 2019 کی ایک پوسٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی ہندوستان میں جو مسلمانوں کے حالات خراب ہیں ان کو تیرے محبوب کے وسیلے سے اچھا کر.
اپوزیشن لیڈر گلاب چند کٹاریہ نے ریاض کے ساتھ تصویر کے تعلق سے کہا کہ یہ تصویر اقلیتی مورچہ کے کسی پرانے پروگرام میں لی گئی ہوگی۔ ارشاد چین والا اقلیتی مورچہ کا پرانا کارکن ہے۔ اس سارے معاملے میں اگر میں یا بی جے پی کا کوئی فرد ملوث ہے یا غلط ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ دوسری طرف اجمیر ساؤتھ سے بی جے پی ایم ایل اے انیتا بھدیل نے ریاض کے کانگریس سے تعلق کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم اجمیر میں فساد کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے بہت سے واٹس ایپ گروپ بنائے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمین کے اہل خانہ کانگریس کے عہدیدار اور کارکن ہیں۔
کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیرا نے سہ پہر دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کنہیا لال کے قتل کے اہم ملزم ریاض عطاری کے ساتھ بی جے پی کے دو لیڈران ارشاد چین والا اور محمد طاہر کے تعلقات کی تصویریں جگ ظاہر ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وہ راجستھان بی جے پی کے قدآور لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ کے پروگراموں میں اکثر شرکت کرتا تھا۔ ریاض کی بی جے پی کی قومی اقلیتی یونٹ کے جلسوں میں شرکت کی تصاویر بھی دنیا کے سامنے ہیں۔
کھیڑا نے کہا کہ 30 نومبر 2018، 3 فروری 2019، 27 اکتوبر 2019، 28 نومبر 2019 اور 10 اگست 2021 کو
کو فیس بک پر بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا اور محمد طاہر کے ذریعے کی گئی پوسٹ سے یہ واضح ہے کہ قتل کا ملزم ریاض صرف بی جے پی لیڈران کا قریبی ہی نہیں ہے بلکہ وہ بی جے پی کا ایک فعال رکن بھی ہے. راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے اس کیس کو این آئی اے کو دینے کا خیر مقدم کیا، لیکن جب نئے حقائق سامنے آرہے ہیں تو یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا مرکزی حکومت نے انہی وجوہات کی بنا پر اس واقعہ کو جلد بازی میں این آئی اے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟


Post A Comment:
0 comments: