اس خاتون نے اپنی بدکلامی کے سبب ملک بھر میں آگ لگا دی ہے، آج ملک بھر میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی تنہا ذمہ دار نوپور ہے: جسٹس سوریہ کانت
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما کی سخت الفاظ میں سرزنش کی. نوپور شرما کے ذریعے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ بیان کے سبب ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور ہندوستان کو اسلامی ممالک کی جانب سے مذمت کا سامنا کرنا پڑا. سپریم کورٹ نے نوپور شرما سے کہا کہ وہ ملک سے معافی مانگے. واضح رہے کہ عدالت نوپور شرما کی درخواست پر سماعت کررہی تھی جس میں اس کے خلاف درج تمام ایف آئی آر دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی.
*اس معاملے میں عدالت نے نوپور سے متعلق جو ریمارکس دیئے.....*
* ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یہ خاتون تنہا اس کی ذمہ دار ہے. جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اس خاتون اور اس کی بدزبانی نے پورے ملک میں آگ لگا دی ہے.
* نوپور شرما کے وکیل نے کہا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں، اور اب ان کے لیے سفر کرنا محفوظ نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اسے خطرات کا سامنا ہے یا وہ خود سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن گئی ہے؟ یہ خاتون ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے اکیلے ہی ذمہ دار ہے.
* انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ٹی وی ڈبیٹ دیکھی ہے کس طرح اسے اکسایا گیا، لیکن جس طرح اس نے یہ سب کہا اور بعد میں کہتی ہے کہ وہ ایک وکیل تھی... یہ شرمناک ہے۔ اسے پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔
* دہلی پولیس نے کیا کیا؟ ہمیں منہ کھولنے پر مجبور نہ کریں۔ ٹی وی پر بحث کیا تھی؟ صرف ایک ایجنڈے کو پروموٹ کرنے کے لیے؟ جج نے گیانواپی مسجد معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ انہوں نے زیر سماعت موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟
* جب آپ [پولیس] دوسروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن جب یہ آپ کے خلاف ہو تو کسی نے آپ کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کی۔
* جسٹس کانت نے کیا کہ کیا ہوا اگر وہ کسی پارٹی کی ترجمان ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ اس کے پاس طاقت ہے اور وہ ملک کے قانون کا احترام کیے بغیر کوئی بھی بیان دے سکتی ہے؟ عدالت نے شرما کو ایک مغرور کردار کی مالک بھی قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما کی سخت الفاظ میں سرزنش کی. نوپور شرما کے ذریعے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ بیان کے سبب ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور ہندوستان کو اسلامی ممالک کی جانب سے مذمت کا سامنا کرنا پڑا. سپریم کورٹ نے نوپور شرما سے کہا کہ وہ ملک سے معافی مانگے. واضح رہے کہ عدالت نوپور شرما کی درخواست پر سماعت کررہی تھی جس میں اس کے خلاف درج تمام ایف آئی آر دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی.
*اس معاملے میں عدالت نے نوپور سے متعلق جو ریمارکس دیئے.....*
* ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یہ خاتون تنہا اس کی ذمہ دار ہے. جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اس خاتون اور اس کی بدزبانی نے پورے ملک میں آگ لگا دی ہے.
* نوپور شرما کے وکیل نے کہا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں، اور اب ان کے لیے سفر کرنا محفوظ نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اسے خطرات کا سامنا ہے یا وہ خود سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن گئی ہے؟ یہ خاتون ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے اکیلے ہی ذمہ دار ہے.
* انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ٹی وی ڈبیٹ دیکھی ہے کس طرح اسے اکسایا گیا، لیکن جس طرح اس نے یہ سب کہا اور بعد میں کہتی ہے کہ وہ ایک وکیل تھی... یہ شرمناک ہے۔ اسے پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔
* دہلی پولیس نے کیا کیا؟ ہمیں منہ کھولنے پر مجبور نہ کریں۔ ٹی وی پر بحث کیا تھی؟ صرف ایک ایجنڈے کو پروموٹ کرنے کے لیے؟ جج نے گیانواپی مسجد معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ انہوں نے زیر سماعت موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟
* جب آپ [پولیس] دوسروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں تو انہیں فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن جب یہ آپ کے خلاف ہو تو کسی نے آپ کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کی۔
* جسٹس کانت نے کیا کہ کیا ہوا اگر وہ کسی پارٹی کی ترجمان ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ اس کے پاس طاقت ہے اور وہ ملک کے قانون کا احترام کیے بغیر کوئی بھی بیان دے سکتی ہے؟ عدالت نے شرما کو ایک مغرور کردار کی مالک بھی قرار دیا۔


Post A Comment:
0 comments: