مادری زبان کے استعمال پر زور، مسلم مخالف ہونے کے الزامات کی تردید، شفافیت سے کام کرنے کا دعویٰ
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ بھارت پہلے ہی ایک ہندو راشٹر ہے اور اس حقیقت کے لیے کسی آئینی منظوری کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ملک کے لوگ اپنی تہذیب، ثقافت اور اپنے آباؤ اجداد کی عظمت پر فخر کرتے رہیں گے، بھارت ہندو راشٹر ہی رہے گا۔
ییہ بھی پڑھیں:....ایک مہینے میں ہندی زبان سیکھو ورنہ.....
اتوار کے روز کولکاتا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ جس طرح سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی، اسی طرح بھارت کا ہندو راشٹر ہونا بھی ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی بھارت کو اپنی مادرِ وطن مانتا ہے اور بھارتی ثقافت کا احترام کرتا ہے، وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔
آر ایس ایس سربراہ نے مزید کہا کہ اگر کبھی پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے بھارت کو ہندو راشٹر قرار دے یا نہ دے، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق آر ایس ایس ہندوتوا نظریے پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے کسی لفظ یا آئینی تعریف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پیدائش کی بنیاد پر ذات پات کا نظام ہندوتوا کی پہچان نہیں ہے۔
زبان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ لوگوں کو غیر ملکی زبانوں کے بجائے اپنی مادری زبان استعمال کرنی چاہیے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگالی بولنے والوں کو اپنے گھروں کے دروازے پر “ویلکم” کے بجائے “سواگتم” لکھنا چاہیے۔
موہن بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس کے بارے میں کچھ لوگوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں، جو گمراہ کن مہمات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آر ایس ایس ایک مضبوط قوم پرست تنظیم ہے، لیکن اس کا مسلمانوں کے خلاف کوئی جذبہ نہیں ہے اور تنظیم ہمیشہ شفاف طریقے سے کام کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ آر ایس ایس مسلم مخالف ہے تو وہ آ کر تنظیم کے کام کو خود دیکھ سکتا ہے۔ اگر انہیں ایسا کچھ نظر آئے تو وہ اپنی رائے قائم رکھیں، اور اگر نہ دیکھیں تو اپنی رائے بدل لیں۔ موہن بھاگوت کے مطابق آر ایس ایس کے بارے میں بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن اگر کوئی سمجھنا ہی نہ چاہے تو اسے قائل کرنا ممکن نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، لیکن ملک اور سنگھ کے خلاف پروپیگنڈا اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ کچھ لوگ ہندومت کے عروج سے خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے بارے میں رائے قائم کرنا ہر شخص کا حق ہے، مگر یہ رائے حقائق پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ افواہوں اور ثانوی معلومات پر۔


Post A Comment:
0 comments: