ممتا بنرجی کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے فیصلہ، 18 جولائی کو صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ، 21 جولائی کو نتیجہ
آج بروز بدھ دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کی ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں صدارتی انتخاب کیلئے دو نام تجویز کئے گئے ہیں. واضح رہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے مذکورہ میٹنگ بلائی تھی.
تقریباً دو گھنٹے تک چلنے والی اس میٹنگ میں ممتا بنرجی نے گوپال گاندھی اور فاروق عبداللہ کے ناموں کی تجویز پیش کی. این سی پی سربراہ شرد پوار نے کہا کہ ہم بھی ان ناموں پر صلاح مشورہ کررہے ہیں. اس میٹنگ میں شیوسینا گانگریس سمیت 16 پارٹیوں نے شرکت کی. عام رائے سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ایک ہی امیدوار ہوگا. عام آدمی پارٹی نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی جبکہ مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی اس میٹنگ میں مدعو نہ کئے جانے کے سبب ناراض ہیں.
اس میٹنگ میں کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی ایم، سی پی آئی ایم ایل، آر ایس پی، شیوسینا، این سی پی،آر جے ڈی، سماجوادی، پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، جے ڈی ایس، ڈی ایم کے، آر ایل ڈی اور دیگر حزب اختلاف جماعتوں کے لیڈران نے شرکت کی. ممتا بنرجی اور شرد پوار اس میٹنگ میں شرکت کیلئے منگل کو ہی دہلی پہنچ گئے تھے. 14 جون کو ممتا بنرجی نے شرد پوار اور پرفل پٹیل سے ملاقات کی تھی. وہیں سیتارام یچوری نے واضح کیا کہ این سی پی سربراہ شرد پوار اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ میں پارٹی کی اعلی قیادت حصہ نہیں لے گی، حالانکہ آج ہونے والی میٹنگ میں انہوں نے خود شرکت کی. ممتا بنرجی نے اپوزیشن کے 8 وزرائے اعلیٰ سمیت 22 لیڈران کو مکتوب لکھ کر میٹنگ میں شریک ہونے کی گزارش کی تھی. کانگریس کی جانب سے سینئر لیڈر ملک ارجن کھرگے نے اس میٹنگ میں شرکت کی. واضح رہے کہ 18 جولائی کو ملک میں صدر جمہوریہ(صدارتی انتخاب) کا انتخاب ہوگا، جس کیلئے تمام اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں.
اس سے قبل ایسی خبریں بھی سامنے آئی کہ اپوزیشن جماعتیں صدارتی امیدوار کیلئے این سی پی سربراہ شرد پوار کے نام پر متفق ہیں. شرد پوار سے قبل کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے کو بھی صدر جمہوریہ کے عہدے کا امیدوار بنانے کی خبریں گشت کررہی تھیں.
18 جولائی کو صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوگی جبکہ 21 جولائی نتائج ظاہر ہوں گے. دستور ہند کے مطابق موجودہ صدر جمہوریہ کے عہدے کی میعاد ختم ہونے قبل نئے صدر کے انتخاب کی کارروائی مکمل ہونی چاہیے. موجودہ صدر جمہوریہ کے عہدے کی میعاد 24 جولائی کو ختم ہورہی ہے.
آج بروز بدھ دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کی ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں صدارتی انتخاب کیلئے دو نام تجویز کئے گئے ہیں. واضح رہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے مذکورہ میٹنگ بلائی تھی.
تقریباً دو گھنٹے تک چلنے والی اس میٹنگ میں ممتا بنرجی نے گوپال گاندھی اور فاروق عبداللہ کے ناموں کی تجویز پیش کی. این سی پی سربراہ شرد پوار نے کہا کہ ہم بھی ان ناموں پر صلاح مشورہ کررہے ہیں. اس میٹنگ میں شیوسینا گانگریس سمیت 16 پارٹیوں نے شرکت کی. عام رائے سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ایک ہی امیدوار ہوگا. عام آدمی پارٹی نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی جبکہ مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی اس میٹنگ میں مدعو نہ کئے جانے کے سبب ناراض ہیں.
اس میٹنگ میں کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی ایم، سی پی آئی ایم ایل، آر ایس پی، شیوسینا، این سی پی،آر جے ڈی، سماجوادی، پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، جے ڈی ایس، ڈی ایم کے، آر ایل ڈی اور دیگر حزب اختلاف جماعتوں کے لیڈران نے شرکت کی. ممتا بنرجی اور شرد پوار اس میٹنگ میں شرکت کیلئے منگل کو ہی دہلی پہنچ گئے تھے. 14 جون کو ممتا بنرجی نے شرد پوار اور پرفل پٹیل سے ملاقات کی تھی. وہیں سیتارام یچوری نے واضح کیا کہ این سی پی سربراہ شرد پوار اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ہونے والی اس میٹنگ میں پارٹی کی اعلی قیادت حصہ نہیں لے گی، حالانکہ آج ہونے والی میٹنگ میں انہوں نے خود شرکت کی. ممتا بنرجی نے اپوزیشن کے 8 وزرائے اعلیٰ سمیت 22 لیڈران کو مکتوب لکھ کر میٹنگ میں شریک ہونے کی گزارش کی تھی. کانگریس کی جانب سے سینئر لیڈر ملک ارجن کھرگے نے اس میٹنگ میں شرکت کی. واضح رہے کہ 18 جولائی کو ملک میں صدر جمہوریہ(صدارتی انتخاب) کا انتخاب ہوگا، جس کیلئے تمام اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں.
اس سے قبل ایسی خبریں بھی سامنے آئی کہ اپوزیشن جماعتیں صدارتی امیدوار کیلئے این سی پی سربراہ شرد پوار کے نام پر متفق ہیں. شرد پوار سے قبل کانگریس لیڈر ملک ارجن کھرگے کو بھی صدر جمہوریہ کے عہدے کا امیدوار بنانے کی خبریں گشت کررہی تھیں.
18 جولائی کو صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوگی جبکہ 21 جولائی نتائج ظاہر ہوں گے. دستور ہند کے مطابق موجودہ صدر جمہوریہ کے عہدے کی میعاد ختم ہونے قبل نئے صدر کے انتخاب کی کارروائی مکمل ہونی چاہیے. موجودہ صدر جمہوریہ کے عہدے کی میعاد 24 جولائی کو ختم ہورہی ہے.


Post A Comment:
0 comments: