کچھ روز قبل کرونا سے متاثر ہونے والے سردانا کی ہرٹ اٹیک سے موت، ساتھی صحافیوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا

ٹی وی جرنلزم کا ایک مشہور و معروف نام، نیوز اینکر روہت سردانا کی ہرٹ اٹیک سے موت ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق آج صبح دل کا دورہ پڑنے کے سبب ان کی موت واقع ہوگئی۔ان کی عمر 40 سال تھی۔کچھ روز قبل سردانا کرونا سے متاثر ہوگئے تھے، لیکن بعد میں ان کی کرونا رپورٹ منفی آئی تھی۔سردانا کی اچانک موت پر صحافت سے وابستہ افراد حیرت کا اظہار کررہے ہیں۔سردانا نے ملک کے متعدد بڑے میڈیا ہاوسیز میں کام کیا ہے۔ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر صحافیوں کا کہنا ہے کہ سردانا ہندی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ان کا بولنے اور سوال کرنے کا انداز بھی بالکل مختلف تھا۔2018 میں سردانا کو گنیش ودیارتھی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ایسا بتایا جارہا ہے کہ سردانا کرونا کے متاثر ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر کافی فعال تھے اور کرونا متیضوں کی مدد کیلئے اپنی بساط بھر کوشش کرتے رہے۔اپنی موت سے ایک روز قبل انہوں نے ایک خاتون کو ریمیڈی سیور انجکشن کی ضرورت سے متعلق ٹوئٹ کیا تھا۔اس کے علاوہ 28 اپریل کو انہوں نے پلازما ڈونیٹ کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔سردانا کے ساتھی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جنونی قسم کے صحافی تھے اور بحث کو بھی مزاح میں لیتے تھے اس سے لطف اندوز ہوتے تھے۔زی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کرونا کے سبب روہت سردانا کی موت ہوئی ہے۔سردانا کی موت کی اطلاع عام ہوتے ہی لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے دکھ کا اظہار کیا اور تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہوگیا۔دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسوڈیا نے لکھا کہ اپنے صحافتی دور کے دوست سینئر صحافی روہت سردانا کی موت سے حیران اور دکھی ہوں۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: